مضامین بشیر (جلد 1) — Page 563
۵۶۳ مضامین بشیر روئداد جلسہ ہوشیار پور کے متعلق ایک ضروری تشریح الفضل ، مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۴۴ء میں جو روئداد جلسہ ہوشیار پور کی شائع ہوئی ہے اس میں کچھ غلطی واقع ہوگئی ہے۔جن اصحاب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والے کمرہ کے اندر جا کر دعا کی تھی۔ان میں صوفی عبد القدیر صاحب بی۔اے بھی شامل تھے جو حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری مرحوم کے فرزند ہیں۔اس طرح کمرہ کے اندر دعا کرنے والوں کی تعداد ۳۶ ہو جاتی ہے۔دراصل شروع میں جب مکان کے اندر جا کر دعا کرنے والوں کی فہرست بنائی گئی تو اس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد تھا کہ مندرجہ ذیل چار اقسام کے اصحاب کمرہ کے اندر جائیں : - (۱) ۱۹۰۱ء سے پہلے بیعت کرنے والے صحابہ (۲) جمله ناظر صاحبان (۳) افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ اور (۴) ایسے اصحاب جن کا پیشگوئی مصلح موعود کے ساتھ خاص تعلق ہے۔یعنی صوفی عبد القدیر صاحب جو حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری مرحوم کے لڑکے ہیں۔جو سفر ہوشیار پور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ تھے اور مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ جو شیخ حامد علی صاحب مرحوم کے داماد ہیں۔اور وہ بھی سفر ہوشیار پور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور مکر می شیخ بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ لاہور جن کے مکان میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مصلح موعود ہونے کے متعلق رویا دیکھا۔اس طرح یہ فہرست قریباً ساٹھ ستر اصحاب کی بن گئی تھی اور خیال تھا کہ کمرہ کے علاوہ جو مکان کی دوسری منزل پر واقع تھا۔کچھ دوست اس کے ساتھ کے برآمدہ میں بھی کھڑے ہو جائیں گے اور باقی دوست باہر کی پبلک گلی اور ساتھ کے میدان میں کھڑے رہیں گے۔مگر تقریر کے اختتام کے قریب مالک مکان کی طرف سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کو پیغام آیا کہ چونکہ کمرہ چھوٹا ہے اس لئے اگر حضور کے ساتھ صرف چھ سات اصحاب اندر آ ئیں تو مناسب ہوگا۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ شاید مالک مکان لوگوں کی کثرت سے گھبراتے ہیں۔اس لئے تم جلدی سے جا کر مکان کے دروازہ پر کھڑے ہو جاؤ اور پہلی فہرست کو