مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 557 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 557

۵۵۷ مضامین بشیر منع نہیں۔مگر مردوں کو نہیں چاہیئے کہ عورتوں کی ایسی مجلسوں میں بیٹھیں۔‘19 قابل دریافت امر یہاں تک تو میں نے اس بات کے متعلق عرض کی ہے جو میرے خیال میں مبارک احمد خان صاحب کے مضمون میں قابل اعتراض تھی۔اور میں نے ثابت کیا ہے کہ انہوں نے خواہ نخواہ میرے فقرہ کو بدل کر اور اس کے ساتھ زائد باتیں لگا کر اپنے استفتاء کی بنیاد بنا لیا۔حالانکہ میری اصل عبارت میں کوئی بات صحیح اسلامی فتویٰ کے خلاف نہیں تھی۔اب میں مختصر طور پر اس دوسری بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔جو میرے خیال میں اس مضمون میں قابل دریافت ہے۔اور یہ بات ہمارے محترم مفتی سلسلہ کے فتویٰ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔حضرت مفتی تحریر فرماتے ہیں کہ :۔اسلام نے آلات کے ساتھ گانا ممنوع قرار دیا ہے۔خواہ مرد کا ہو یا عورت کا اور آلات خواہ پرانے ہوں یا جدید ہوں گا نا خواہ اچھے معنی رکھتا ہو خواہ برے معنی رکھتا ہو۔بہر حال ان سب کو ممنوع قرار دیا ہے۔“ اس کے متعلق میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جناب مفتی سلسلہ کی مراد " آلات موسیقی سے کیا ہے۔یہ الفاظ چونکہ مختلف معانی کے حامل سمجھے جا سکتے ہیں۔اس لئے ان کی تشریح اور توضیح بلکہ تعیین ہو جانی ضروری ہے تا کہ غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔مثلاً کیا حضرت مفتی کے نزدیک دف اور ڈھول بھی آلات موسیقی میں شامل ہیں؟ اگر ہیں تو پھر ان احادیث کی کیا تشریح ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان لڑکیوں کا گھروں کے اندر دف یا ڈھول پر بعض اشعار وغیرہ کا گانا ظاہر ہوتا ہے ( مثلاً ملاحظہ ہو بخاری کتاب النکاح عین الربیع بنت معوذ ) اور دف کے استعمال کو اعلان کی غرض سے نکاح کے موقع پر بھی جائز رکھا گیا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے عموماً آلات موسیقی تین قسم کے ہوتے ہیں :- اول : دف اور ڈھول کی قسم کے آلات جن میں کسی خلاء دار فریم پر چمڑا وغیرہ منڈھا ہوتا ہے اور ہاتھ یا لکڑی وغیرہ کی ضرب سے انہیں بجایا جا تا ہے۔دوم : نالی دار آلات جن کو مونہہ سے لگا کر سانس کے زور سے آواز نکالی جاتی ہے۔سوم : تار والے آلات جن کی تاروں کو انگلیوں وغیرہ سے چھو کر موسیقی پیدا کی جاتی۔اور پھر آگے ان تینوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ان سب کے متعلق شریعت ہے۔اسلامی کا ایک ہی حکم ہے۔یا کہ مختلف ؟ اس سوال کے سوا میں اس وقت جناب مفتی سلسلہ کے فتویٰ کے