مضامین بشیر (جلد 1) — Page 556
مضامین بشیر لیکن اگر یہ راگ کے اوزان میں ہے اور مزامیر کے ساتھ ہے تو یہ نا پسندیدہ ہے۔۱۸ ناظرین ملا حظہ فرمائیں کہ کیا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ارشاد میں وہی شرائط درج نہیں جو میں نے اپنے مضمون کے اس ضمنی فقرہ میں بیان کی ہیں۔جسے ہمارے نوجوان دوست نے اپنے استفتاء کی بنیاد بنایا ہے۔بات یہ ہے کہ اسلام کسی فطری جذبہ کو بھی مٹاتا نہیں بلکہ اس کی مناسب تربیت کرتا اور اسے جائز قیود کے ساتھ مقید کرتا ہے۔حتی کہ شہوانی قومی کو بھی اسلام نے مٹایا نہیں بلکہ صرف لگام دے کر صحیح راستہ کے اندر محدود کر دیا ہے۔تو پھر یہ سمجھنا کہ فطرت کے جذبہ توازن کو جو نہ صرف انسان بلکہ حیوان بلکہ میں کہوں گا کہ نباتات اور جمادات تک میں پایا جاتا ہے اور جس کا اظہار موسیقی کے نام سے تعبیر ہوتا ہے ، اسلام نے قطعی طور پر مٹا دیا ہے۔ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے ثبوت کے لئے اس سے بہت زیادہ مضبوط براہین کی ضرورت ہے۔جو ہمارے دوست نے پیش کی ہیں۔ہاں جس طرح ہر چیز کا غلط استعمال بڑا اور نا جائز ہے اسی طرح اس فطری جذبہ توازن کا غلط استعمال بھی یقیناً نا جائز ہے۔اور یہی وہ خطر ناک موسیقی ہے جس کی طرف ہمارے مضمون نگار کے پیشکر دہ حوالہ جات ہماری راہ نمائی کر رہے ہیں۔اور جس کے خلاف خود اس خاکسار نے ۱۹۴۰ء میں آواز اٹھائی تھی مگر غلطی سے اس کے کچھ اور معنی سمجھ لئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد گانے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ بھی اصولی روشنی ڈال سکتا ہے۔حضور اس سوال کے جواب میں کہ لڑکی یا لڑکے کے ہاں جو جوان عورتیں مل کر گاتی ہیں وہ کیا ہے۔فرماتے ہیں : - اگر گیت گندے اور نا پاک نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے مسجد میں ایک صحابی نے خوش الحانی سے شعر پڑھے تو حضرت عمر نے ان کو منع کیا اس نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شعر پڑھے ہیں تو آپ نے منع نہیں کیا بلکہ آپ نے ایک بار اس کے شعر سنے تو اس کے لئے رحمۃ اللہ فرمایا غرض اس طرح پر اگر وہ فسق و فجور کے گیت نہ ہوں تو۔عمرؓ