مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 555 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 555

۵۵۵ مضامین بشیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خوش الحانی کے ساتھ اشعار نہیں سنے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں خوش الحانی کے ساتھ گا کر شعر نہیں پڑھے گئے؟ کیا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فونوگراف کے لئے شعر نہیں لکھے اور کیا ان شعروں کو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے فونوگراف میں خوش الحانی کے ساتھ ریکارڈ نہیں کیا اور کیا اس ریکارڈ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہیں سنا ؟ کیا کبھی خلفاء احمدیت کی مجلسوں میں خوش الحانی کے ساتھ گا کر شعر نہیں پڑھے گئے؟ کیا ہمارے ہر سالانہ جلسہ کی ابتداء قرآن کریم کی تلاوت کے بعد کسی نظم کے ساتھ نہیں ہوتی۔اور کیا یہ نظم گا کر یعنی خوش الحانی کے ساتھ نہیں پڑھی جاتی۔پھر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کی آواز سن کر یہ نہیں فرمایا۔کہ اسے تو لحن داؤ دی سے حصہ ملا ہے؟ اگر یہ ساری باتیں درست ہیں تو ان چار ا صولی شرطوں کے ماتحت جو میں نے بیان کی ہیں۔میرا مشار الیہ گانا کس طرح قابل اعتراض اور ناجائز سمجھا جا سکتا ہے۔جو حوالے اور ارشادات پیش کئے گئے وہ سب ہمارے سر آنکھوں پر ہیں مگر ان میں میرے مشار الیہ گانے کی طرف اشار انہیں بلکہ اس گانے کی طرف اشارہ ہے جو ان شرطوں کے خلاف ہے۔یعنی (۱) اس میں یا تو کوئی بات یعنی گانے کا مضمون یا طریق یا آلہ وغیرہ مضمون یا طریق خلاف مذہب ہے یا (۲) اس کا مضمون یا طریق خلاف اخلاق ہے۔اور یا (۳) اس میں انہاک کا رنگ پیدا کر لیا جاتا ہے۔یا (۴) اس کی وجہ سے ضیاع وقت ہوتا ہے اس چاردیواری کے اندر محفوظ ہو جاؤ پھر خدا کے فضل سے سب خیر ہی خیر ہے۔اور کوئی بات قابل اعتراض نہیں رہتی۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کا ارشاد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ گراموفون کے متعلق اصولی طور پر فرماتے ہیں :- ریکارڈ اپنی ذات میں تو کوئی بُری چیز نہیں۔بلکہ اس کے لئے اخراجات جو اسراف کی حد تک پہنچتے ہوں بھروا نا اس کا سننا جو وقت ضائع کرنے کی حد تک پہونچتا ہو۔اور اس میں ایسی چیز کا بھروانا جو اپنی ذات میں نا پسندیدہ ہو۔اسے بُرا بنا دیتی ہے۔اگر اس کا خریدنا اسراف کی حد تک نہیں پہنچا تا۔اور اس کا سننا وقت ضائع کرنے کی حد تک نہیں پہنچتا ( اور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں بھروائی جاتی جو اپنی ذات میں بڑی ہے ) تو یہ جائز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ایک نظم مولوی عبد الکریم صاحب سے خود فونوگراف میں بھروائی تھی