مضامین بشیر (جلد 1) — Page 554
مضامین بشیر ۵۵۴ بھی اور سادہ خوش الحانی کے رنگ میں بھی۔اور پھر آلات بھی کئی قسم کے ہیں۔یعنی از قسم دف بھی اور نالی دار بھی اور تار والے بھی۔ان حالات میں گانے کے متعلق میرے سادہ الفاظ کو از خود سر اور تال اور جدید آلات موسیقی اور مردوں اور عورتوں کے بھاری بھر کم اور وسیع الاثر الفاظ کے ساتھ مقید کر کے اپنے استفتاء کی بنیاد بنانا اور پھر دعوی یہ کرنا کہ استفتاء میرے ہی الفاظ میں پیش کیا گیا ہے۔ایک بہت بڑی بھول ہے۔جس پر میں اپنے عزیز کے لئے خدا سے مغفرت چاہتا ہوں۔اب رہا وہ ضمنی فقرہ جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔سواس میں میں نے خود چار واضح شرطیں لگا دی تھیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ان چار شرطوں کے ہوتے ہوئے وہ نہ صرف کسی شرعی فتوی کی زد کے نیچے نہیں آتا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر احتیاط اور حزم کی طرف لے جاتا ہے۔جو چار شرطیں میں نے لکھی تھیں۔وہ یہ تھیں۔چارا ہم شرطیں اول: گانے میں کوئی نا جائز عنصر نہ ہو۔جس میں یہ باتیں شامل ہیں کہ مثلاً گانے کا مضمون خلاف مذہب نہ ہو۔یا گانے کا طریق خلاف مذہب نہ ہو۔یا گانے میں کوئی ایسا آلہ استعمال نہ کیا جائے جس کا استعمال شریعت میں ممنوع ہے یا گانے والی عورتوں کی مجلس میں مرد نہ شرکت کریں۔وغیرہ ذالک دوم : گانے میں کوئی مخرب اخلاق بات نہ ہو یعنی نہ صرف یہ کہ گانے میں کوئی بات کسی جہت سے خلاف مذہب نہ ہو بلکہ اس کے مضمون اور طریق میں کوئی بات خلاف اخلاق بھی نہ ہو جو انفرادی یا قومی اخلاق کو بگاڑنے والی سمجھی جاوے۔سوم : وہ انہماک کا باعث نہ ہو۔یعنی انسان اس میں اس طرح نہ پڑے جو انہماک کا رنگ رکھتا ہو اور اسے اس کے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف سے غافل کر دے۔اسی اصل کے ماتحت گانے کو اپنا پیشہ بنالینا بھی جائز نہیں سمجھا جائے گا۔جیسا کہ بعض احادیث میں بھی اس طرف اشارہ آتا ہے۔چهارم: وہ ضیاع وقت کا موجب نہ ہو یعنی اس میں اتنا وقت خرچ نہ کیا جائے جو انسانی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کر نیوالا ہو۔ناظرین غور کریں کہ کیا ان چار شرائط کے باہر بھی کوئی بات رہ جاتی ہے؟ کیا خوش الحانی کے ساتھ گانا جوان چار شرائط کے ماتحت آتا ہو کسی شخص کے نزدیک ناجائز اور ممنوع سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا