مضامین بشیر (جلد 1) — Page 553
۵۵۳ مضامین بشیر ضیاع وقت کا موجب نہ ہونے لگے۔بے احتیاطی میرے مضمون اور اپنی اس عبارت کے پیش نظر میرے مضمون نگار دوست خود ملا حظہ فرمائیں کہ اول :- کیا ان کے لئے یہ مناسب اور درست تھا کہ وہ میرے مضمون کے اصل مقصد اور اس کے حقیقی موضوع کے خلاف بلکہ اسے بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اس کے ایک محض ضمنی فقرہ کو اپنے استفتاء کی بنیاد بنا ئیں۔دوم : - کیا میرے ضمنی فقرہ کی عبارت اور ان کے استفتاء کی عبارت ایک ہے اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو کیا ان کے واسطے یہ جائز تھا کہ دعویٰ تو یہ کریں کہ میرے مضمون کے الفاظ میں ہی استفتاء پیش کر رہے ہیں مگر عملاً اسے بدل کر اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے ایسے الفاظ زیادہ کر کے جو میں نے ہر گز نہیں کہے اپنا استفتاء مرتب کریں۔چنانچہ استفتاء میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں کہ : - سر اور تال کے قواعد کے مطابق جدید آلات موسیقی کے ساتھ عورتوں یا مردوں کے گانے سننا 66 مجھے میرے عزیز نامہ نگار صاحب بتائیں کہ میرے فقرہ میں یہ الفاظ یا اس مفہوم کے الفاظ یا اس قسم کے الفاظ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہاں ہیں ؟ تو پھر کیا یہ انصاف کے خلاف نہیں۔کہ دعوئی تو یہ کیا جائے کہ میرے مضمون کے الفاظ میں ہی استفتاء پیش کیا جا رہا ہے مگر عملاً استفتاء کی عبارت میں خود اپنی طرف سے کئی الفاظ زائد کر دئیے جائیں۔اور الفاظ بھی ایسے جو استفتاء کی صورت اور اس کی بنیاد کو ہی بدل دیتے ہیں۔اسلام تو وہ منصفانہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل وانصاف کی تعلیم دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے :- لَا يَجُرِ مَنْكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى كل لیکن ہمارے بعض عزیز اپنوں کے ساتھ بھی انصاف روا ر کھنے کو تیار نظر نہیں آتے مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ مضمون نگارصاحب سے یہ غلطی بدنیتی سے نہیں ہوئی بلکہ صرف بے احتیاطی یا جوش تحریر میں ہوگئی ہے۔اس لئے میں اپنے دل میں ان کے خلاف قطعاً کوئی رنجش نہیں پاتا بلکہ ان کے اخلاص اور جوش ایمان پر خوش ہوں۔دراصل ہمارے دوست نے غور نہیں کیا ورنہ وہ آسانی سے جان سکتے تھے کہ ریڈیو یا گراموفون میں ہر قسم کا گانا ہوتا ہے۔مردوں کا بھی اور عورتوں کا بھی۔آلات موسیقی کے ساتھ