مضامین بشیر (جلد 1) — Page 552
مضامین بشیر ۵۵۲ ضمنی فقرہ میں بھی میری طرف سے چار اہم شرائط لگا دی گئی تھیں۔جن کی تشریح میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ہمارے نوجوان مضمون نگار نے اپنے استفتاء کی بنیاد بنا کر پیش کیا ہے۔گویا میں جدید موسیقی کا دلدادہ اور حامی ہوں اور نامہ نگار صاحب اس کے الفاظ کو پیش کر کے حضرت مفتی سلسلہ سے اس کے خلاف فتویٰ طلب فرما رہے ہیں۔چنانچہ مبارک احمد خاں صاحب لکھتے ہیں :۔و کچھ عرصہ ہوا۔الفضل جلد ۲۸ نمبر ۲۲۱ میں ہمارے سلسلہ کے ایک محترم بزرگ نے ( یہ اشارہ خاکسار کی طرف سے ) اس بدعت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا تھا کہ ریڈیو سیٹوں پر ایسے گانے جو مخرب اخلاق نہ ہوں اور نہ ہی اپنے اندر کوئی نا جائز عنصر رکھتے ہوں، حد اعتدال کے اندر سننے سے کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔( یہ الفاظ بھی صحیح طور پر خاکسار کے نہیں ) اس پر میں نے مضمون مذکورہ کے الفاظ میں ہی مندرجہ ذیل استفتاء حضرت مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت میں ارسال کیا تھا جس کی نقل مع جواب حسب ذیل ہے :- استفتاء بخدمت گرامی حضرت مفتی سلسلہ عالیہ احمد یہ دام معالیکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ براہ کرم مندرجہ ذیل استفتاء کا جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمایا جائے۔ریڈیو سیٹوں پر سُر اور تال کے قواعد کے مطابق جدید آلات موسیقی کے ساتھ عورتوں یا مردوں کے گانے کبھی کبھار بطور تفریح سنناور آنحالیکہ گانا بُرا نہ ہو اور نہ ہی کوئی مخرب اخلاق یا نا جائز عنصر اس گانے میں شامل ہو۔اس شرط کے ساتھ کہ وہ حد اعتدال سے تجاوز کر کے انہماک اور ضیاع وقت کا موجب بھی نہ ہونے لگے۔از روئے شرع شریف گناہ یا معصیت خدا اور رسول میں شامل ہے یا نہیں؟ اس کے مقابل میرے مضمون کا وہ فقرہ جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی کے الفاظ میں یہ استفتاء پیش کیا جا رہا ہے یہ تھا : - اگر کوئی شخص اپنے گھر میں پرائیویٹ طور پر کبھی کبھار موسیقی سن لیتا ہے تو اگر یہ موسیقی اپنے اندر کوئی مخرب اخلاق یا نا جائز عنصر نہیں رکھتی تو مجھے یا کسی اور شخص کو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔بشرطیکہ وہ حد اعتدال سے تجاوز کر کے انہماک اور