مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 551 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 551

۵۵۱ مضامین بشیر محنت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کیونکہ قطع نظر اس کے کہ اُن کے مضمون کے بعض حصے درست ہیں یا نہیں۔انہوں نے اس مضمون کے ذریعہ جماعت کو ایک اصولی امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو آج کل کثیر التعداد لوگوں کی ٹھوکر بلکہ بعض حالات میں تباہی کا موجب ہو رہا ہے اور جس کے انتہائی خطرات سے بعض احمدی بھی ابھی تک پوری طرح آگاہ نہیں مگر مجھے اس مضمون میں ایک بات قابل اعتراض اور دوسری بات قابل دریافت نظر آتی ہے جسے میں اس جگہ پیش کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔استفتاء کی بنیاد مبارک احمد خاں صاحب نے جو حسن اتفاق سے میرے استاد ماسٹر عبدالعزیز خانصاحب کے فرزند ہیں اور اس لئے ہم دونوں ایک دوسرے پر دوسروں کی نسبت غالبا کسی قدر زیادہ حق رکھتے ہیں ، اپنے مضمون میں اپنے استفتاء کی بنیاد میرے ایک مضمون کو بنایا ہے جو ایک بدعت کا آغا ز کے عنوان کے ماتحت الفضل مورخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۴۰ء میں شائع ہوا تھا۔جس میں میں نے یہ دیکھ کر کہ قادیان کی ایک مسنون دعوت ولیمہ میں جس میں فریقین مخلص احمدی تھے اور مردوں اور عورتوں کی بیٹھنے کی جگہ میں صرف ایک دیوار حائل تھی ، ریڈیو یا گراموفون کے گانے کے ذریعہ مہمانوں کی دعوت کو پر تکلف بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔اس فعل کو ایک بدعت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔اور جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ایسے وقت میں جبکہ ہم چاروں طرف سے دجالی تہذیب کے فتنوں سے گھرے ہوئے ہیں، ہمیں اس احتیاط کی بے حد ضرورت ہے کہ کہیں ہم غفلت کی حالت میں مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر کسی خطرناک گڑھے میں نہ گر جائیں اور میں نے اس جہت سے بھی جماعت کو ہوشیار کیا تھا کہ گو ایسے خطرات کا آغاز اکثر اوقات بہت حقیر اور نا قابل التفات نظر آیا کرتا ہے مگر انجام بالعموم نہایت مہیب اور مہلک ہوتا ہے۔جو بسا اوقات ایک قوم کی قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔الغرض میرا یہ مضمون نہ صرف اپنی غرض وغایت کے لحاظ سے بلکہ اپنے الفاظ و مفہوم کے لحاظ سے بھی موجودہ زمانہ کی موسیقی اور اس کے خطرناک نتائج کے خلاف بھرا پڑا تھا۔لیکن ضمناً اس میں ایک ایسا فقرہ بھی آگیا تھا کہ اگر کوئی ایسا گانا ہو جس میں کوئی ناجائز عنصر نہ ہو۔اور نہ کوئی مخرب اخلاق بات ہو اور اس میں انہاک اور ضیاع وقت کی صورت بھی نہ پائی جائے تو کبھی کبھار گھر میں پرائیویٹ طور پر اس کا سننا قابل اعتراض نہیں سمجھا جا سکتا مگر میرے اس ضمنی فقرہ کو جو حقیقیہ ضمنی ہی تھا کیونکہ سارا مضمون موجودہ زمانہ کی موسیقی کے خطرات کے خلاف بھرا پڑا تھا اور پھر اس