مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 549 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 549

۵۴۹ مضامین بشیر ہی مہر کی نقد بہ نقد ادئیگی کو پسند کیا گیا ہے ( اور ظاہر ہے کہ شادی کے وقت مرد کے لئے اور بھی کئی قسم کے اخراجات در پیش ہوتے ہیں ) تو لاز ما یہی سمجھا جائے گا کہ شریعت کا یہ منشاء نہیں کہ مہر کی وجہ سے مرد کسی غیر معمولی بوجھ کے نیچے دب جائے۔بلکہ شریعت نے اسے ایک ایسی چیز قرار دیا ہے جو دوسرے اخراجات کو جاری رکھتے ہوئے معقول طور پر برداشت کی جا سکے۔عام حالات میں مہر کی حد اندریں حالات حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مہر کے متعلق جو یہ اصولی ارشاد فرمایا ہوا ہے کہ وہ مرد کی چھ ماہ کی آمد سے لے کر بارہ ماہ کی آمد تک ہونا چاہیئے ھا۔وہ بہت خوب اور مناسب ہے۔اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں مہر چھ ماہ کی آمد کے برابر ہونا چاہیئے مگر خاص حالات میں سات آٹھ نو یا دس ماہ کی آمد تک رکھا جا سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ شریعت اسلامی کے اصولی رجحان کو دیکھتے ہوئے عام حالات میں چھ ماہ کی حد بہت مناسب اور بہتر ہے اور اکثر صورتوں میں اس سے اوپر جانے کی ضرورت نہیں۔مگر چھ ماہ کے اندازے کا یہ مطلب نہیں کہ مہر کسی صورت میں بھی اس کے کم نہیں ہوسکتا کیونکہ استثنائی حالات میں ( مثلاً جبکہ خاوند بہت مقروض ہو یا اس پر بہت سے دوسرے رشتہ داروں کا بوجھ ہو وغیرہ ذالک) مہر اس سے بھی کم رکھا جا سکتا ہے اور کم ہونا چاہیئے اور اس کے مقابل پر دوسری قسم کے استثنائی حالات میں مہر دس ماہ کی آمد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔پس گو بہر حال مہر خاوند کی مالی حیثیت کی بناء پر مقرر ہونا چاہیئے یعنی نہ تو وہ محض برائے نام ہو اور نہ ہی نمائش کے خیال سے بڑھا چڑھا کر رکھا جائے بلکہ حالات کے مطابق واجبی ہولیکن بہر صورت اس کے تقرر میں اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہیئے کہ اس کی ادائیگی خاوند پر کوئی غیر معمولی بوجھ نہ بن جائے بلکہ وہ ایسا ہو کہ قرآنی منشاء کے ماتحت ایک نیک دل خاوند اسے بشاشت قلب اور طیب نفس کے ساتھ ادا کر سکے۔میں نے نیک دل خاوند کی شرط اس لئے لگائی ہے کہ ایک خسیس اور کنجوس انسان کے لئے تو ایک روپیہ دینا بھی دوبھر ہوتا ہے اور اسے کسی رقم پر بھی خواہ وہ کتنی ہی قلیل ہو طیب نفس کی کیفیت حاصل نہیں ہوسکتی۔پس ایسے لوگوں کا معاملہ جدا گانہ ہے۔شریعت نے اپنے احکام کی بنیا د ایسے لوگوں کی طبیعت پر نہیں رکھی بلکہ عام انسانی فطرت کے اصولوں پر رکھی ہے۔واللہ اعلم ( مطبوعہ الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۴۳ء)