مضامین بشیر (جلد 1) — Page 545
۵۴۵ مضامین بشیر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے۔اور ایسے اسباب پیدا کر دینا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدرنا کام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔(۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔(۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت میں ہوا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی۔اور بہت سے بادیہ نشین مرتد ہو گئے۔اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا۔اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا : - ہوا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دينَهُمُ الَّذِى ارتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمُ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمُنًا۔یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خد تعالی دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر د یوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی (یعنی میری وفات کے قریب ہونے کی خبر ) غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔۱۲