مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 541 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 541

۵۴۱ مضامین بشیر صورت یہ ہے کہ لوگ خلیفہ کو منتخب کرتے ہیں اور خدا بظاہر لاتعلق ہوتا ہے لیکن با وجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد یہ فرماتے ہیں کہ خلیفہ بنا تا خدا ہے۔ہاں مفسد لوگ بعض اوقات خدا کے بنائے ہوئے خلفاء کو معزول کرنے کی کوشش ضرور کیا کرتے ہیں۔یہ وہ عظیم الشان نکتہ ہے جسے سمجھنے کے بعد کوئی شخص خدا کے فضل سے مسئلہ خلافت کے تعلق میں ٹھو کر نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن چونکہ دنیا کا ہر نظام وقتی ہے۔اور عموماً دوروں میں تقسیم شدہ ہوتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہوشیار اور چوکس رکھنے کے لئے یہ انکشاف بھی فرما دیا کہ ” میرے بعد متصل اور مسلسل طور پر خلافت حلقہ کا دور صرف تمہیں سال تک چلے گا۔جس کے بعد غاصب لوگ ملوکیت کا رنگ اختیار کر لیں گے۔اور اس کے بعد حسب حالات اور ضرورت زمانہ روحانی خلافت کے دور آتے رہیں گے۔حتی کہ بالآخر مسیح و مہدی کے نزول کے بعد پھر منہاج نبوت پر ظاہری خلافت کی صورت قائم ہو جائے گی۔‘‘ چونکہ خلافت کا نظام نبوت کے نظام کا حصہ اور تتمہ ہے اور نبوت کی خدمت اور تکمیل کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق قرآن شریف کی آیت استخلاف میں ایسی علامات مقرر فرما دی ہیں جو سچی خلافت کو جھوٹی خلافت سے روز روشن کی طرح ممتاز کر دیتی ہیں فرماتا ہے : - "وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُو الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ط وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔یعنی خدا تعالیٰ کا یہ پختہ وعدہ ہے کہ وہ عمل صالح بجالانے والے مومنوں میں سے ملک میں خلفاء مقرر کرے گا ( یہ مطلب نہیں کہ جو مومن بھی عمل صالح کرنے والا ہوگا وہ ضرور خلیفہ بنے گا بلکہ اس میں اشارہ یہ ہے کہ جو خلیفہ ہو گا وہ ضرور مومن اور عمل صالح بجالانے والا ہوگا ) یہ خلفاء اسی سنت کے مطابق مقرر کئے جائیں گے۔جس طرح پہلی امتوں میں مقرر کئے گئے۔اور خدا تعالیٰ اس دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے۔ان کے ذریعہ سے دنیا میں مضبوطی سے قائم