مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 540 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 540

مضامین بشیر ۵۴۰ وسلم کے اس قول میں مخفی ہے جو آپ نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے حضرت ابو بکر کے متعلق فرمایا۔آپ فرماتے ہیں : - أَوْ أَرَدْتُ اَنْ أُرْسِلَ إِلى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَانْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ، أَوْ يَتَمَنَّى المَتَمَنُّونَ، ثُمَّ قُلْتَ يَابَى اللَّهُ وَيَدْ فَعُ وَيَدْفَعُ المَوْ مِنُونُ، أَوْ يَرْفَعُ اللَّهُ وَيَابَى المَؤْمِنُونَ۔ك یعنی میں ابو بکر کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنا چاہتا تھا مگر پھر میں نے خیال کیا کہ یہ خدا کا کام ہے۔خدا ابوبکر کے سوا کسی اور شخص کو خلیفہ نہیں بننے دے گا اور نہ ہی خدا کی مشیت کے ماتحت مومنوں کی جماعت ابوبکر کے سوا اور کی خلافت پر راضی ہو سکے گی۔“ اللہ اللہ ! اس چھوٹے سے فقرہ میں نظامِ خلافت کا کتنا وسیع مضمون ودیعت کر دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بے شک میرے بعد بظاہر مسلمانوں کی کثرت ابو بکر کو خلیفہ منتخب کرے گی مگر دراصل اس رائے کے پیچھے خدائے قدیر کی از لی تقدیر کام کر رہی ہوگی اور وہی ہوگا جو خدا کا منشاء ہو گا اور اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور با وجود اس کے کہ اندرونی طور پر انصار نے اپنے میں سے کسی اور شخص کو کھڑا کرنا چاہا اور بیرونی طور پر عرب کے بدوی قبائل نے باغی ہو کر خلافت کے نظام کو ہی ملیا میٹ کر دینے کی تدبیر کی مگر چونکہ ابوبکر خدا کا مقرر کردہ خلیفہ تھا، اس لئے اس کے اتباع کی قلت اس کے مخالفین کی کثرت کو اس طرح کھا گئی۔جس طرح سمندر کا پانی اپنے اوپر کی چھاگ کو کھا جاتا ہے۔پھر جو الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان سے فرمائے کہ ” خدا تمہیں ایک قمیض پہنائے گا اور لوگ اُسے اتارنا چاہیں گے مگر تم اسے نہ اُتارنا۔وہ بھی اسی قدیم سنتِ الہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دراصل خلیفہ خدا بناتا ہے اور انتخاب کرنے والے لوگ صرف ایک پردہ کا کام دیتے ہیں اور ایک آلہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔جسے خدا اپنی تقدیر کو جاری کرنے کے لئے اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ان الفاظ پر غور کرو کہ وہ کیسے پیارے اور کیسے دانائی سے معمور ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ بنانے کے فعل کو خدا کی طرف منسوب فرماتے ہیں اور خلافت سے معزول کرنے کی کوشش کو لوگوں کی طرف نسبت دیتے ہیں۔گویا جو صورت بظا ہر نظر آتی ہے اس کے بالکل برعکس ارشاد فرماتے ہیں۔خلافت کے انتخاب میں بظاہر نظر آنے والی