مضامین بشیر (جلد 1) — Page 539
چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- ۵۳۹ مضامین بشیر إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ " چونکہ قرآنی الہام ایک ہمیشہ کی یاد گار قرار دیا گیا ہے اور خدا کا یہ منشاء ہے کہ وہ قیامت تک لوگوں کے بیدار کرنے کا ذریعہ رہے۔اس لئے خدا خود اس کا محافظ ہوگا اور ہمیشہ ایسے سامان پیدا کرتا رہے گا جو اسے ظاہری اور معنوی ہر دو لحاظ سے محفوظ رکھیں گے۔گویا قرآنی حفاظت کی وجہ ”ذکر“ کے چھوٹے سے لفظ میں مرکوز کر دی گئی ہے۔یہی حال نبوت کا ہے۔جب اللہ تعالیٰ دنیا کو کسی عظیم الشان فتنہ وفساد میں مبتلا دیکھ کر اس کی اصلاح کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ کسی شخص کو اپنی طرف سے رسول یا نبی بنا کر مبعوث کرتا ہے مگر نبی بہر حال ایک انسان ہوتا ہے اور لوازمات بشری کے ماتحت اس کی زندگی چند گنتی کے سالوں سے زیادہ وفا نہیں کر سکتی۔اس صورت میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کے مشن کو کامیاب بنانے اور انتہا تک پہنچانے کے لئے اس کی وفات کے بعد بھی کوئی ایسا انتظام کرے جس کے ذریعہ نبی کا بویا ہوا بیج اپنے کمال کو پہونچ سکے۔اور وہ اصلاح جو اللہ تعالیٰ نبی کی بعثت سے پیدا کرنا چاہتا ہے دنیا میں قائم اور راسخ ہو جائے۔یہ خدائی نظام جسے گویا نبوت کا تتمہ کہنا چاہیئے خلافت کے نام سے موسوم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ ہر عظیم الشان نبی کے بعد اس کے کام کو تعمیل تک پہنچانے کے لئے خلفاء کا سلسلہ قائم فرماتا ہے۔یہ خلفاء بالعموم خود نبی یا مامور نہیں ہوتے مگر نبی کے تربیت یافتہ اور اس کے خدا داد مشن کو سمجھنے والے اور اسے چلانے کی اہلیت رکھنے والے ہوتے ہیں اور گو وہ خدا کی وحی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ اپنی تقدیر خاص کے ماتحت ایسا تصرف فرماتا ہے کہ نبی کے گزر جانے کے بعد وہی لوگ مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہیں جنہیں خدا اس کام کے لئے پسند فرماتا ہے گویا خدا تعالیٰ کی مخفی تاریں مومنوں کے قلوب پر متصرف ہو کر انہیں خود بخو د خلافت کے اہل شخص کی طرف پھیر دیتی ہیں۔اسی لئے باوجود اس کے کہ ایک غیر ما مور خلیفہ لوگوں کا منتخب شدہ ہوتا ہے، اسلام یہ تعلیم دیتا ہے اور قرآن اس حقیقت کو صراحت کے ساتھ بیان فرماتا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔بظاہر یہ ایک متضادی بات نظر آتی ہے کہ ایسا شخص جو لوگوں کی کثرت رائے یا اتفاق رائے سے خلیفہ منتخب ہو اس کے تقر ر یا انتخاب کو خدا کی طرف منسوب کیا جائے مگر حق یہی ہے کہ باوجود ظاہری انتخاب کے ہر بچے خلیفہ کے انتخاب میں دراصل خدا کا مخفی ہاتھ کام کرتا ہے۔اور صرف وہی شخص خلیفہ بنتا ہے اور بن سکتا ہے جسے خدا کی ازلی تقدیر اس کام کے لئے پسند کرتی ہے اور اس کے سوا کسی کی مجال نہیں کہ مسند خلافت پر قدم رکھنے کی جرات کر سکے۔یہی گہری صداقت آنحضرت صلی اللہ علیہ