مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 47 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 47

۴۷ مضامین بشیر ہے اور خواہ مجھے کمزور کہا جائے یا میرا نام وہم پرست رکھا جائے حقیقت یہ ہے کہ میں ہر قدم پر لغزش سے ڈرتا رہا ہوں اور اسی خیال کے ماتحت میں نے ہر روایت کو دعا کے بعد خدا کے نام سے شروع کیا ہے۔یہ اگر ایک بچوں کا کھیل ہے تو بخدا مجھے یہ کھیل ہزار ہا سنجید گیوں سے بڑھ کر ہے۔اور جناب ڈاکٹر موصوف سے میری یہ بصد منت درخواست ہے کہ میرے اس کھیل میں روڑا نہ اٹکا ئیں۔مگر خدا جانتا ہے کہ یہ کوئی کھیل نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہے اور اگر میں نے تصنع کے طور پر یا لوگوں کے دکھانے کے لئے یہ کام کیا ہے تو مجھ سے بڑھ کر شقی کون ہوسکتا ہے کہ خدائے قدوس کے نام کے ساتھ کھیل کرتا ہوں اس صورت میں وہ مجھ سے خود سمجھے گا اور اگر یہ کھیل نہیں اور خدا گواہ ہے کہ یہ کھیل نہیں تو ڈاکٹر صاحب بھی اس دلیری کے ساتھ اعتراض کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے خدا سے ڈریں۔بس اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔چھٹا اصولی اعتراض جو ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مضمون کے شروع میں سیرۃ المہدی پر کیا ہے وہ یہ ہے کہ ” دراصل یہ کتاب صرف محمودی صاحبان کے پڑھنے کے لیئے بنائی گئی ہے۔یعنی صرف خوش عقیدہ لوگ پڑھیں۔جن کی آنکھوں پر خوش عقیدگی کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔نہ غیروں کے پڑھنے کے لائق ہے ، نہ لا ہوری احمدیوں کے، نہ کسی محقق کے ، بعض روایتوں میں حضرت مسیح موعود پر صاف زد پڑتی ہے مگر چونکہ ان سے لاہوری احمدیوں پر بھی زد پڑنے میں مدد ملتی ہے اس لئے بڑے اہتمام سے ایسی لغو سے لغو روائتیں مضبوط کر کے دل میں نہایت خوش ہوتے 66 معلوم ہوتے ہیں۔الخ اس اعتراض کے لب ولہجہ کے معاملہ کو حوالہ بخدا کرتے ہوئے اس کے جواب میں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اگر یہ اعتراض واقعی درست ہو تو میری کتاب صرف اس قابل ہے کہ اسے آگ کے حوالہ کر دیا جائے اور اس کا مصنف اس بڑی سے بڑی سزا کا حق دار ہے جو ایک ایسے شخص کو دی جاسکتی ہے جو اپنی ذاتی اغراض کے ماتحت صداقت کی پروا نہیں کرتا اور جو اپنے کسی مطلب کو حاصل کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال کے ایک مقرب و ذی شان فرستادہ کو اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔اور اگر یہ درست نہیں اور میرا خدا شاہد ہے کہ یہ درست نہیں تو ڈاکٹر صاحب خدا سے ڈریں اور دوسرے کے دل کی نیت پر اس دلیری کے ساتھ حملہ کر دینے کو کوئی معمولی بات نہ جانیں۔یہ درست ہے کہ ان کے اس قسم کے حملوں کے جواب کی طاقت مجھ میں نہیں ہے لیکن خدا کو ہر طاقت حاصل ہے اور مظلوم کی