مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 522 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 522

مضامین بشیر ۵۲۲ میں نماز پڑھ رہا تھا تو عین اس وقت میری توجہ ایک ایسے مضمون کی طرف منتقل ہوئی جو اسی جمعہ والے مضمون کی ایک فرع اور شاخ ہے اور میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ یہ مضمون احباب تک بھی پہنچاؤوں۔تا جن دوستوں کے واسطے خدا مقدر کرے وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی آنے والی ترقی کو دائمی صورت دے سکیں۔وما توفيقنا الا بالله العظيم جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں میں ان خیالات میں مستغرق تھا کہ جمعہ ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہوتی ہے اور اس سال اس دن کا غیر معمولی اجتماع ظاہر کرتا ہے کہ یہ بات یونہی اتفاقی نہیں بلکہ قدرت کی پرسرار انگلی ہمیں اس کے ذریعہ ایک خاص مضمون کی طرف توجہ دلانے کے لئے اٹھ رہی ہے۔عین اس وقت ایک بجلی کی سی چمک کے طور پر میری توجہ قرآن شریف کی سورہ نصر کی طرف پھر گئی اور میرے دل میں فوری خیال آیا کہ ہمارے لئے اس آنے والے دور کی ترقی اور اس ترقی کے زمانہ کے خطرات اور پھر ان کا علاج اور اس علاج کے نتیجہ میں خدائی سلوک سبھی کچھ اس مختصر قرآنی سورۃ میں مرکوز ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک وسیع مضمون آنکھوں کے سامنے آ گیا۔جس کا خلاصہ میں اس وقت احباب کے سامنے پیش کرتا ہوں مگر اس سے پہلے میں اس جگہ اس قرآنی سورۃ اور اس کے ترجمہ کو درج کر دینا چاہتا ہوں تا کہ احباب اس کے الفاظ کو مستحضر رکھ سکیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا دو یعنی جب خدا کی نصرت اور فتح کا وقت آئے۔اور تم دیکھو کہ لوگ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اس وقت تم خدا کی تعریف میں ہور لگ جانا اور اس سے اپنی حفاظت اور اپنی کمزوریوں کی مغفرت چاہنا۔اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً تم اپنے خدا کو بار بار رحمت کے ساتھ رجوع کرنے والا پاؤ گے۔“ یہ قرآنی سورۃ وہ سورۃ ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئی اور اس کے بعد اسلام میں فتح اور توسیع کا ایک غیر معمولی دروازہ کھل گیا۔دراصل جیسا کہ تاریخ ادیان سے پتہ چلتا ہے۔ہر الہی سلسلہ کے ابتدائی زمانہ میں دو دور آیا کرتے ہیں :- ایک وہ دور جس میں ترقی کی رفتار بہت دھیمی ہوتی ہے اور لوگ فرداً فرداً حق کو قبول کرتے