مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 516 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 516

مضامین بشیر ۵۱۶ مسئلہ ایک بہت نازک مسئلہ ہے اور ذراسی بے احتیاطی سے ناجائز رنگ پیدا ہوسکتا ہے اور میں اس بات کو بھی تسلیم کرنے کو تیار ہوں کہ بعض لوگ بے احتیاطی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں مگر خدا کے فضل سے مجھ پر اس مسئلہ کی صحیح صورت مخفی نہیں۔اور میں رہن کا ہر معاملہ کرتے ہوئے اسے اپنی طرف سے حتی الوسع مد نظر رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر میں جانتا ہوں کہ انسان بہت کمزور ہے و ما ابری نفسی ان النفس لامارة بالسوء الامارحم ربى ان ربي غفور رحيم۔جہاں میں نے اوپر کا نوٹ لکھا ہے وہاں اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری شریعت نے محرمات کے متعلق ایک نہائت سنہری گر بتایا ہے۔اور وہ یہ کہ محرمات ایک سرکاری رکھ کا رنگ رکھتی ہے جس کے اندر اپنے جانور چھوڑنا تو بہر حال منع ہی ہے۔اس کے قریب قریب بھی اپنے جانوروں کو نہیں چرانا چاہیئے تا کہ کبھی بھٹک کر یا بے احتیاطی سے وہ اس کے اندر نہ چلے جائیں۔یہ ایک نہائت قیمتی اور محفوظ اصول ہے ، جسے دوستوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے۔کسی جائز چیز کے حصہ سے محروم ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر کسی نا جائز چیز میں ملوث ہو جانا ایک خطرناک زہر ہے۔جو ایمان اور عمل صالح کو گھن لگا دیتا ہے۔پس ایسے معاملات میں بڑی خشیت اور احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔ایک مسلمان شاعر نے تقوی کی تعریف میں ایک صحابی کے قول کو کس خوبصورتی کے ساتھ منظوم کیا ہے کہتا ہے۔۔ـذنـوبَ, وك ــا ذاك التـ ـقـ اءة ض الشوك يـــحـــــرمــــــــا يـــــــرای لات رن ان الجبــــــال مـــن الـــــحــــــــــــــى د یعنی تمام گناہوں سے مجتنب رہو۔خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، یہی تقویٰ ہے۔اور دنیا میں اس طرح چلو جس طرح ایک ایسا شخص چلتا ہے جس کا رستہ کانٹے دار جھاڑیوں میں سے گزرتا ہو جو ہر چیز سے ڈرتا ہو۔اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے۔کسی چھوٹی چیز کو بھی حقیر نہ سمجھو۔کیونکہ بڑے بڑے پہاڑ بھی چھوٹے چھوٹے کنکروں سے مل کر بنتے ہیں۔تقوی کی یہ ایک نہائت لطیف تعریف ہے اور یہی ہمارا لائحہ عمل ہونا چاہیئے اور اس جہت سے