مضامین بشیر (جلد 1) — Page 515
۵۱۵ مضامین بشیر ہوگا۔لیکن اگر وہ مکان کی حیثیت کو نظر انداز کر کے اپنے روپیہ کی بنیاد پر زیادہ کرایہ لینا چاہتا ہے تو یہ ایک ناجائز صورت ہوگی اور سود کا رنگ پیدا ہو جائے گا۔البتہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ رہن لینے والا اس بات کی خواہش کرے کہ میں اپنے ایک ہزار روپے کے بدلہ میں یہ مکان رہن نہیں لیتا جس کا کرایہ چار روپے ماہوار ہے۔بلکہ کوئی دوسرا مکان لینا چاہتا ہوں جس کا کرایہ سات یا آٹھ روپے ہے۔کیونکہ اس صورت میں نفع کی بنیاد بہر حال جائیداد مر ہونہ پر رہے گی نہ کہ روپیہ پر۔دوسری : ضروری شرط یہ ہے کہ رہن مقبوضہ یعنی با قبضہ صورت میں ہو۔یعنی مرہونہ چیز صرف آڑ کے طور پر نہ ہو۔بلکہ واقعی اس کا قبضہ مرتہن کو حاصل ہو جائے اور حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح ایده اللہ تعالیٰ کے فتویٰ کے مطابق قبضہ کی یہ قانونی صورت بھی جائز ہے کہ رہن رکھنے والا مرتہن کو واجبی کرایہ نامہ لکھ دے اور پھر ا سے کرایہ دار کی حیثیت میں کرایہ ادا کرتا رہے بشرطیکہ فریقین کے واسطے اس کرایہ نامہ کی دائمی پابندی نہ ہو۔بلکہ جب کوئی فریق چاہے مناسب نوٹس دے کر کرایہ کو مناسب طور پر بڑھا گھٹا سکے۔یا قبضہ بدل سکے۔مثلاً را ہن کو یہ اختیار ہو کہ وہ مناسب نوٹس دے کر مکان خالی کر دے اور مرتہن کو بھی یہ حق ہو کہ وہ مناسب نوٹس کے ساتھ مرہو نہ مکان خالی کرا سکے۔تیسری شرط یہ ہے کہ تا قیام رہن مرہو نہ جائیداد کا خرچ جو اس کے رکھ رکھاؤ کی صورت میں ہو وہ بذمہ مرتہن ہو نہ کہ بذمہ را ہن۔ان تین شرطوں کے ساتھ رہن کی صورت ایک جائز صورت ہے جو نہ صرف کسی اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں بلکہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے فتویٰ اور عمل کی تائید بھی حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ثمر دار باغ حضرت ام المومنین کے پاس رہن رکھا۔اور یہ کہہ کر اور جتا کر رکھا کہ تم اس کی آمد جو کم و بیش اس قدر ہے تا قیام رہن وصول کرنا اور ساتھ ہی معیاد بھی لکھ دی کہ اتنے عرصہ تک یہ رہن فک نہیں ہوگا۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ کے ذریعہ متعدد رہن بصورت بالا ہوئے ہیں۔اور بپا بندی شرائط بالا انہیں بالکل جائز سمجھا گیا ہے۔میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ بعض فقہا نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے یعنی بعض فقہا نے مر ہو نہ چیز کی آمد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بعض خاص پابندیاں لگائی ہیں۔اسی طرح انہوں نے قبضہ کو محض قانونی قبضہ کی صورت میں جائز نہیں سمجھا بلکہ ظاہری اور بد یہی صورت ضروری قرار دی ہے مگر یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسرے مسائل میں فقہاء میں ہو جاتا ہے اور بہر حال اصل اسلامی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے فتویٰ کی تائید او پر والی صورت کو حاصل ہے اور ہمارے واسطے یہی کافی ہے۔یہ درست ہے کہ یہ