مضامین بشیر (جلد 1) — Page 507
۵۰۷ مضامین بشیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دوستوں اور دشمنوں سے سلوک دوستوں سے سلوک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا دل عطا کیا تھا جو محبت اور وفا داری کے جذبات سے معمور تھا۔آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے کسی محبت کی عمارت کو کھڑا کر کے پھر اس کے گرانے میں کبھی پہل نہیں کی۔ایک صاحب مولوی محمد حسین صاحب ٹبالوی آپ کے بچپن کے دوست اور ہم مجلس تھے مگر آپ کے دعوای مسیحیت پر آکر انہیں ٹھوکر لگ گئی اور انہوں نے نہ صرف دوستی کے رشتہ کو توڑ دیا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشد ترین مخالفوں میں سے ہو گئے اور آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ لگانے میں پہل کی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں آخر وقت تک ان کی دوستی کی یاد زندہ رہی اور گو آپ نے خدا کی خاطر ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان کی فتنہ انگیزیوں کے ازالہ کے لئے ان کے اعتراضوں کے جواب میں زور دار مضامین بھی لکھے مگر ان کی دوستی کے زمانہ کو آپ کبھی نہیں بھولے اور ان کے ساتھ قطع تعلق ہو جانے کو ہمیشہ تلخی کے ساتھ یاد رکھا۔چنانچہ اپنے آخری زمانہ کے اشعار میں مولوی محمد حسین صاحب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں : قَطِعُتَ وداد قد غرسناه في الصبا وليس فؤادى فى الوداد يقصر ۳۴ یعنی تو نے تو اس محبت کے درخت کو کاٹ دیا جو ہم دونوں نے مل کر بچپن میں لگایا تھا میرا دل محبت کے معاملہ میں کوتا ہی کرنے والا نہیں ہے“۔جب کوئی دوست کچھ عرصہ کی جدائی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملتا تو اسے دیکھ کر آپ کا چہرہ یوں شگفتہ ہو جاتا تھا جیسے کہ ایک بند گلی اچانک پھول کی صورت میں کھل جاوئے اور دوستوں کے رخصت ہونے پر آپ کے دل کو از صدمہ پہنچتا تھا۔ایک دفعہ جب آپ نے اپنے بڑے فرزند اور ہمارے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( موجود امام جماعت احمدیہ ) کے قرآن شریف ختم کرنے پر آمین لکھی اور اس تقریب پر بعض بیرونی دوستوں کو بھی بلا کر اپنی خوشی میں شریک فرمایا تو اس وقت آپ نے اس آمین میں اپنے دوستوں کے آنے کا ذکر بھی کیا اور پھر ان کے واپس