مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 490 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 490

مضامین بشیر ۴۹۰ مسجد مبارک میں ملایا گیا۔مسٹر والٹر نے منشی صاحب سے رسمی گفتگو کے بعد یہ دریافت کیا کہ آپ پر جناب مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا ؟ منشی صاحب نے جواب دیا کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا مگر مجھ پر جس بات نے سب سے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی۔جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانتدار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔باقی میں تو ان کے مونہ کا بھوکا تھا۔مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں ہے۔یہ کہ کر منشی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں اس قدر بے چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ کا ٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ان کے چہرہ کا رنگ ایک دھلی ہوئی چادر کی طرح سفید پڑ گیا تھا اور بعد میں انہوں نے اپنی کتاب احمد یہ موومنٹ میں اس واقعہ کا خاص طور پر ذکر بھی کیا اور لکھا کہ جس شخص نے اپنی صحبت میں اس قسم کے لوگ پیدا کئے ہیں، اسے ہم کم از کم دھو کے باز نہیں کہہ سکتے۔کاش مسٹر والٹر کا ذہن اس وقت زمانہ حال سے ہٹ کر تھوڑی دیر کے لئے ماضی کی طرف بھی چلا جاتا اور وہ انیس سو سال پہلے کے مسیح ناصری کے حواریوں کا بیسویں صدی کے مسیح محمدی کے حواریوں کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھتے کہ وہاں تو مسیح ناصری کے خاص حواریوں میں سے ایک نے چند روپے لے کر مسیح کو پکڑوا دیا اور دوسرے نے جو بعد میں مسیح کا خلیفہ بننے والا تھا، لوگوں کے ڈر سے مسیح پر کئی دفعہ لعنت بھیجی اور یہاں خدا کے برگزیدہ محمدی مسیح کو ایسے جانثار پروانے عطا ہوئے جن کی روح کی غذا ہی مسیح کی محبت تھی اور جو ہر وقت اسی انتظار میں رہتے تھے کہ ہمیں اپنے آقا پر قربان ہونے کا کب موقع ملتا ہے اور پھر کاش مسٹر والٹر اس وقت اپنے خدا وند مسیح کا یہ قول بھی یاد کر لیتے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘ مگر شاید ان کا خیال اس طرف گیا ہوا اور شاید ان کی اس وقت کی گھبراہٹ اسی خیال کی وجہ سے ہو۔کون کہہ سکتا ہے؟ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی دور وائتیں۔الغرض حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم ایک خاص طبقہ کے فرد تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ان لوگوں کے ساتھ خاص محبت تھی اور آپ اپنے چھوٹے عزیزوں کی طرح ان سے محبت کرتے اور ان کے ساتھ بے تکلفی کا رنگ رکھتے تھے۔مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس منشی ظفر احمد صاحب کی بہت سی روائتیں محفوظ ہیں جو میں نے ان سے عرض