مضامین بشیر (جلد 1) — Page 491
۴۹۱ مضامین بشیر ނ کر کے ان کے صالح فرزند شیخ محمد احمد صاحب کے ذریعہ وفات سے کچھ عرصہ قبل جمع کر والی تھیں۔ان میں سے بطور نمونہ دور وائتیں اس جگہ درج کرتا ہوں اور لطف یہ ہے کہ ان دونوں میں منشی اروڑ ا صاحب مرحوم کا بھی تعلق پڑتا ہے۔ایک دفعہ منشی ظفر احمد صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا کہ میں اور منشی اروڑا صاحب اکٹھے قادیان میں آئے ہوئے تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا اور چند دن بارش رکی ہوئی تھی۔جب ہم قادیان سے واپس روانہ ہونے لگے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سلام کے لئے حاضر ہوئے تو منشی اروڑا صاحب مرحوم نے حضرت صاحب سے عرض کیا ” حضرت گرمی بڑی سخت ہے دعا کریں کہ ایسی بارش ہو کہ بس اوپر بھی پانی ہو اور نیچے بھی پانی ہو۔“ حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔”اچھا اوپر بھی پانی ہو اور نیچے بھی پانی ؟“ مگر ساتھ ہی میں نے ہنس کر عرض کیا کہ حضرت یہ دعا انہی کے لئے کریں۔میرے لئے نہ کریں۔( ذرا ان ابتدائی بزرگوں کی بے تکلفی کا انداز ملاحظہ ہو کہ حضرت صاحب سے یوں ملتے تھے جیسے ایک مہربان باپ کے اردگرد اس کے بچے جمع ہوں ) اس پر حضرت صاحب پھر مسکرا دیئے اور ہمیں دعا کر کے رخصت کیا۔منشی صاحب فرماتے تھے کہ اس وقت مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان پر بادل کا نام ونشان تک نہ تھا۔مگر ابھی ہم بٹالہ کے راستہ میں یکہ میں بیٹھ کر تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ سامنے سے ایک بادل اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چھا گیا اور پھر اس زور کی بارش ہوئی کہ رستے کے کناروں پر مٹی اٹھانے کی وجہ سے جو خندقیں بنی ہوئی تھیں ، وہ پانی سے لبالب بھر گئیں۔اس کے بعد ہمارا یکہ جو ایک طرف کی خندق کے پاس پاس چل رہا تھا یک لخت الٹا اور اتفاق ایسا ہوا کہ منشی اروڑا صاحب خندق کی طرف کو گرے اور میں اونچے راستے کی طرف گرا۔جس کی وجہ سے منشی صاحب کے اوپر اور نیچے سب پانی ہی پانی ہو گیا اور میں بچ رہا۔چونکہ خدا کے فضل سے چوٹ کسی کو بھی نہیں آئی تھی۔میں نے منشی اروڑا صاحب کو اوپر اٹھاتے ہوئے ہنس کر کہا ”لو اوپر اور نیچے پانی کی اور دعائیں کروالو۔“ اور پھر ہم حضرت صاحب کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے آگے روانہ ہو گئے۔۲۴