مضامین بشیر (جلد 1) — Page 489
۴۸۹ مضامین بشیر کا خاص بے تکلفانہ تعلق تھا۔کپورتھلہ کی جماعت میں ہاں وہی جماعت جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں سے یہ مبارک و وعید سند حاصل کی ہے کہ خدا کے فضل سے وہ جنت میں بھی اسی طرح آپ کے ساتھ ہوگی جس طرح وہ دنیا میں ساتھ رہی ہے۔تین بزرگ خاص طور پر قابل ذکر ہیں اعنی حضرت میاں محمد خان صاحب مرحوم اور حضرت منشی اروڑا صاحب مرحوم اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم۔یہ تینوں بزرگ حقیقۂ شمع مسیحی کے جان نثار پروانے تھے ، جن کی زندگی کا مقصد اس شمع کے گرد گھوم کر جان دینا تھا۔انتہاء درجہ محبت کرنے والے ، انتہاء درجہ مخلص ، انتہاء درجہ وفادار، انتہاء درجہ جان نثار اپنے محبوب کی محبت میں جینے والے جن کا مذہب عشق تھا اور پھر عشق اور پھر عشق اور عشق میں ہی انہوں نے اپنی ساری زندگیاں گزار دیں۔کیا یہ لوگ بھی کبھی مر سکتے ہیں ؟ ہرگز نمیرد آن که دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریدہ عالم دوام شاں ایک یوروپین سے حضرت منشی اروڑے خاں صاحب کی ملاقات کا نظارہ میں نے مرحوم محمد خان صاحب کے علاوہ باقی دونوں اصحاب کو دیکھا ہے اور ان کے حالات کا کسی حد تک مطالعہ بھی کیا ہے۔( یہ یادر ہے کہ اس جگہ صرف کپورتھلہ کی جماعت کا ذکر ہے۔ورنہ خدا کے فضل سے بعض دوسری جماعتوں میں بھی اس قسم کے فدائی لوگ پائے جاتے تھے۔جیسے کہ مثلاً سنور میں حضرت منشی عبداللہ صاحب مرحوم تھے۔اور اسی طرح بعض اور جماعتوں میں بھی تھے ) اور میں مبالغہ سے نہیں کہتا بلکہ ایک حقیقت بیان کرتا ہوں کہ میرے الفاظ کو وہ پیما نہ میسر نہیں ہے، جس سے ان بزرگوں کی محبت کو ناپا جاسکے مگر ایک ادنیٰ مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ جس طرح ایک عمدہ اسفنج کا ٹکڑا پانی کو جذب کر کے پانی کے قطروں سے اس طرح بھر جاتا ہے کہ اسفنج اور پانی میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا اور نہیں کہہ سکتے کہ کہاں پانی ہے اور کہاں سفنج۔اسی طرح ان پاک نفس بزرگوں کا دل بلکہ ان کے جسموں کا رواں رواں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت سے لبریز تھا۔مجھے خوب یاد ہے اور میں اس واقعہ کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ جب ۱۹۱۶ء میں مسٹر والٹر آنجہانی جو آل انڈیا وائی ایم سی۔اے کے سیکرٹری تھے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق تحقیق کرنے کے لئے قادیان آئے تھے۔انہوں نے قادیان میں یہ خواہش کی کہ مجھے بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے صحابی سے ملایا جائے۔اس وقت حضرت منشی اروڑا صاحب مرحوم قادیان میں تھے۔مسٹر والٹر کومنشی صاحب مرحوم کے ساتھ