مضامین بشیر (جلد 1) — Page 42
مضامین بشیر ۴۲ ان کے مد نظر ہے لیکن اگر کوئی روایت پیش کی جائے جس میں اس قسم کی کمزوری ہے اور میں نے اسے ظاہر نہیں کیا تو گو محدثین کے اصول کے لحاظ سے میں پھر بھی زیر الزام نہیں ہوں کیونکہ محدثین اپنی کتابوں میں اس قسم کی کمزوریوں کو عموماً خود بیان نہیں کیا کرتے بلکہ یہ کام تحقیق و تنقید کرنے والوں پر چھوڑ دیتے ہیں لیکن پھر بھی میں اپنی غلطی کو تسلیم کرلوں گا اور آئندہ مزید ا حتیاط سے کام لوں گا۔ہاں ایک غیر واضح سی مثال روایت نمبر ۳ے کی ڈاکٹر صاحب نے بیان فرمائی ہے جس میں حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی روایت سے کسی ہندو کا واقعہ درج ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفانہ توجہ ڈالنی چاہی تھی لیکن خود مرعوب ہو کر بدحواس ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ : - اس روایت میں یہ درج نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ ثانی نے یہ واقعہ خود دیکھا تھا یا کہ کسی کی زبانی سنا تھا اور اگر کسی کی زبانی سنا تھا تو وہ کون تھا۔“ اس کے جواب میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب ایک واقعہ کوئی شخص بیان کرتا ہے اور روایت کے اندر کوئی ذکر اس بات کا موجود نہیں ہوتا کہ اس واقعہ کے وقت وہ خود بھی موجود نہیں تھا اور نہ وہ واقعہ ایسے زمانہ یا جگہ سے تعلق رکھنا بیان کیا جاتا ہے کہ جس میں اس راوی کا موجود ہونا محال یا ممتنع ہو ( مثلاً وہ ایسے زمانہ کا واقعہ ہو کہ جس میں وہ راوی ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہو۔یا وہ ایسی جگہ سے تعلق رکھتا ہو کہ جہاں وہ راوی گیا ہی نہ ہو ) تو لا محالہ یہی سمجھا جائے گا کہ راوی خوداپنا چشم دید واقعہ بیان کر رہا ہے۔اور اس لئے یہ ضرورت نہیں ہوگی کہ راوی سے اس بات کی تصریح کرائی جاوے کہ آیا وہ واقعہ کا چشم دید ہے یا کہ اس نے کسی اور سے سنا ہے۔بہر حال میں نے ایسے موقعوں پر یہی سمجھا ہے کہ راوی خود اپنی دیکھی ہوئی بات بیان کر رہا ہے۔اسی لئے میں نے اس سے سوال کر کے مزید تصریح کی ضرورت نہیں سمجھی۔ہاں البتہ جہاں مجھے اس بات کا شک پیدا ہوا ہے کہ راوی کی روایت کسی بلا واسطہ علم پر مبنی نہیں ہے۔وہاں میں نے خود سوال کر کے تصریح کرالی ہے۔چنانچہ جو مثال مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی روایت کی میں نے اوپر بیان کی ہے اس میں یہی صورت پیش آئی تھی۔مولوی صاحب موصوف نے منشی احمد جان صاحب کے متعلق ایک بات بیان کی کہ ان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یوں یوں گفتگو ہوئی تھی اب حضرت مسیح موعود کی تحریرات کی بنا پر میں یہ جانتا تھا کہ منشی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود کے دعوئی سے پہلے ہی انتقال کر گئے تھے اور یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی ملاقات حضرت صاحب کے ساتھ بعد دعویٰ مسیحیت ہوئی ہے۔پس لا محالہ مجھے یہ شک پیدا ہوا کہ مولوی صاحب کو اس بات کا علم کیسے ہوا۔چنانچہ میں نے مولوی صاحب سے سوال کیا اور انہوں نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں نے خود منشی صاحب مرحوم کو نہیں دیکھا۔چنانچہ