مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 481 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 481

۴۸۱ مضامین بشیر اپنی ستاری کے دامن کو اس حد تک کھینچ لیتا ہے کہ وہ زنا جیسے جرم میں جو انتہائی پردہ کی حالت میں کیا جاتا ہے ، اس درجہ ننگا ہو جاتا ہے کہ چار معتبر گواہ اس کی روسیا ہی پر چشم دید شہادت دیتے ہیں تو اس کی انتہائی شقاوت میں کیا شبہ ہے اور وہ خدا کے بندوں کی طرف سے کس رحم کا مستحق سمجھا۔جا سکتا ہے۔ساتویں دلیل ہفتم: میں نے سنا ہے گو میں نے یہ حوالہ خود نہیں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی کسی تحریر میں اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اسلام نے زنا کی سزا رجم مقرر کی ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بیان جمہور مسلمانوں کی طرف سے محض حکایت کے رنگ میں نہیں ہے بلکہ خود آپ کا اپنا ذاتی فتویٰ ہے تو احمد یہ جماعت کے لئے اس کے بعد کسی اور بحث کی گنجائش نہیں رہتی اور کم از کم میرے لئے تو ساری بحث کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ میں نے خدا کے فضل سے اپنے دل کو ہمیشہ اس بات کے لئے آمادہ پایا ہے کہ اگر میرے پاس کسی بات کی تائید میں ہزار دلیل ہو۔جس پر مجھے فخر اور ناز ہو مگر مجھ پر یہ ظاہر ہو جائے کہ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد وہاں بظاہر بے دلیل و بے ثبوت ارشاد کچھ اور ہے تو میں اپنے خیالات کو اپنے دل سے اس طرح نکال کر پھینک دیتا ہوں جس طرح مکھن میں سے بال کو نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔علماء کا کام خلق مے گوید که خسرو بت پرستی ریست آرے آرے می کنم با خلق و عالم کار نیست مختصراً یہ وہ دلائل ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رجم کی سزا درست اور برحق ہے۔پس اب ہمارے علماء کا یہ کام ہے کہ وہ اس بحث کے موافق و مخالف دلائل پر غور کر کے اور اس میدان میں مزید تحقیق کا رستہ کھول کر کوئی آخری رائے قائم کریں مگر یہ بات بہر صورت مد نظر رہنی چاہیئے کہ عملی مسائل میں سب سے زیادہ وزن مومنوں کے تعامل کو ہوتا ہے۔اور محض کسی عقلی دلیل سے جو غلطی کا امکان رکھتی ہو، ایک ثابت شدہ تعامل کو ہرگز ر دنہیں کیا جا سکتا۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی امر میں تعامل ہی ثابت نہ ہو یا ایک رنگ تعامل کا تو ہو مگر تعامل کی تہہ میں کوئی اور معقول