مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 477 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 477

مضامین بشیر ہے کہ گویا یہ عقیدہ جمہور مسلمانوں کا متفقہ اور متحدہ عقیدہ ہے مگر تحقیقی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس عقیدہ کے متعلق بعض ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ علماء کو اس بارے میں غور کر کے کوئی آخری رائے قائم کرنی ضروری ہے۔ہر چند کہ اس وقت ہندوستان میں جہاں ایک غیر اسلامی حکومت قائم ہے ، یہ مسئلہ کوئی عملی اہمیت نہیں رکھتا اور زیادہ تر صرف ایک علمی حیثیت رکھتا ہے مگر اول تو بہر حال یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔دوسرے چونکہ اس مسئلہ کا بالواسطہ طور پر اسلامی تعلیم کی روح پر کافی گہرا اثر پڑتا ہے۔اس لئے اسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔بظاہر حالات اس مسئلہ کے متعلق جو سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ مختصر یہ ہیں : - پہلا سوال اول زنا کے تعلق میں شریعت اسلامی کی طرف دوسزائیں منسوب کی جاتی ہیں۔ایک غیر شادی شدہ شخص کی سزا۔یعنی اسی کوڑے۔اور دوسرے شادی شدہ شخص کی سزا یعنی سنگسار۔لیکن عجیب بات ہے کہ ان دوسزاؤں میں سے جو کم اہم اور نسبتا نرم ہے۔یعنی کوڑے۔اس کا تو قرآن شریف نے صراحتاً ذکر کیا ہے لیکن اس کے مقابل پر زیادہ اہم اور زیادہ سخت سزا کے ذکر کو ترک کر کے اسے محض زبانی حدیثوں کی تشریح پر چھوڑ دیا ہے۔حالانکہ عقلاً یہ بات ضروری تھی کہ قرآن شریف جو شریعت اسلامی کا اصل ماخذ ہے زیادہ اہم سزا کا ذکر کرتا اور اگر کسی سزا کا ذکر ترک ہی کرنا تھا تو ہلکی سزا کے ذکر کو ترک کر دیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ زیادہ اہم سزا کے ذکر کو ترک کر کے صرف کم اور ہلکی سزا کا ذکر درج کر دیا گیا ہے اور زیادہ اہم سزا کے ذکر کے لئے ہمیں حدیث کا رستہ دکھایا جاتا ہے۔دوسرا سوال دوم : قرآن شریف نے زنا کی سزا کا ذکر سورہ نور میں کیا ہے۔جہاں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بہتان والے واقعہ کی ذیل میں زنا سے تعلق رکھنے والے احکام نازل ہوئے ہیں مگر عجیب بات ہے کہ اس جگہ واقعہ تو ایک شادی شدہ عورت کا ہے۔اور ذکر اس سزا کا کیا جاتا ہے جو غیر شادی شدہ سے تعلق رکھتی ہے۔حالانکہ اگر اسلام نے رجم کی سزا مقرر کی ہوتی تو طبعا اور لازماً یہی وہ موقع تھا مگر اس جگہ رجم کے ذکر کا نام ونشان تک نہیں۔تیسرا سوال