مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 469 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 469

۴۶۹ مضامین بشیر زیادہ اونچا ہوا کرتا ہے مثلاً جب ایک کمان کے سیدھے حصہ کو جس طرف چلہ ہوتا ہے زمین پر لگا کر کھڑا کریں تو لازماً اس کا سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ ہی سب سے زیادہ اونچا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح جو کبھی عورت کی فطرت میں رکھی گئی ہے وہ دراصل عورت کا مخصوص کمال اور اس کی انثیت ( یعنی عورت پن ) کے حسن کا بہترین حصہ ہے اور یہ مخصوص ٹیڑھا پن جتنا جتنا کسی عورت میں زیادہ ہوگا اتنا اتنا ہی وہ اپنی انثیت یعنی جو ہر نسوانی میں کامل سمجھی جائے گی۔یہ وہ ابلغ اور ارفع فلسفہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان مختصر الفاظ میں جو اوپر درج کئے گئے ہیں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔صنف نازک کا کمال اگر اس جگہ کسی شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ عورت کے اس ٹیڑھے پن سے وہ کونسی چیز مراد ہے جو اس کی انثیت کا کمال قرار دی گئی ہے تو ہر عقلمند انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اس ٹیڑھے پن سے اس کی طبیعت کا جذباتی عنصر مراد ہے جو ایک عجیب و غریب انداز میں ظاہر ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ جہاں خالق فطرت نے مرد میں عقل کو غالب اور جذبات کو مغلوب رکھا ہے وہاں عورت میں یہ نسبت ایک نہایت درجہ حکیمانہ فعل کے نتیجہ میں الٹ دی گئی ہے اور جذبات کو غیر معمولی غلبہ دے دیا گیا ہے اور یہی اس کا فطری ٹیڑھا پن ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ٹیڑھی پسلی کی پیدا وار قرار دے کر فرماتے ہیں کہ یہ ٹیڑھا پن صنف نازک کا کمال ہے عورت میں ٹیڑھا پن رکھنے کی وجہ اب سوال ہوتا ہے کہ یہ ٹیڑھا پن عورت کے اندر کیوں رکھا گیا ہے۔اس کا جواب خود قرآن شریف دیتا ہے جو ساری حکمتوں کا منبع اور ماخذ ہے فرماتا ہے: خَلَقَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً۔كل یعنی خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے تمہاری بیویاں بنائی ہیں تا کہ تم ان سے دل کی سکینت حاصل کر سکو اور اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ کو تمہارے لئے محبت اور رحمت کا ذریعہ بنایا ہے۔" یہ وہ حکمت ہے جس کے ماتحت خالق فطرت نے عورت میں جذبات کے عنصر کو غلبہ دے کر اسے مرد کی قلبی سکسیت اور اس کی فطری محبت کی پیاس کے بجھانے کا ذریعہ بنایا ہے اور ظاہر ہے کہ جذبات