مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 466 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 466

مضامین بشیر ۴۶۶ عورت یعنی ٹیڑھی پسلی کی عجیب و غریب پیداوار مختصر کلام میں وسیع معانی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے جوامع الکلم عطا کئے گئے ہیں ! یعنی مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے وہ طاقت اور وہ حکمت عطا فرمائی ہے کہ میرا کلام باوجود مختصر ہونے کے وسیع ترین معانی کا حامل ہوتا ہے اور میرے مونہہ سے نکلے ہوئے چھوٹے چھوٹے کلمات بھی بڑے بڑے علوم کا خزانہ ہوتے ہیں۔آپ کا یہ دعویٰ ایک خالی دعوی نہیں ہے جو مونہہ سے نکل کر ہوا میں پہنچتا اور ختم ہو جاتا ہے بلکہ ہر شخص جو آپ کی زندگی اور آپ کے کلام کا مطالعہ کرے گا وہ اس دعوی کی صداقت کو اپنے دل کی گہرائیوں میں یوں اترتے دیکھے گا۔جس طرح کہ ایک مضبوط فولادی شیخ ایک لکڑی کے تختہ کے اند داخل ہو کر اس کے ساتھ ہمیشہ کے لئے پیوست ہو جاتی ہے۔خاکسار راقم الحروف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کا کسی قدر مطالعہ کیا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جب کبھی بھی آپ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتوں پر نظر ڈالی ہے تو خواہ آپ نے کوئی بات کیسی ہی سادگی اور کیسی ہی بے ساختگی کے ساتھ فرمائی ہوئی میں نے اس پر نظر ڈالتے ہی اسے علم کا ایک ایسا عظیم الشان سمندر پایا ہے جو اپنی حدود کی وسعت اور اپنے تموج کی رفعت میں یقیناً دنیا کے پردے پر اپنی نظیر نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول صنف نازک کے متعلق اس وقت میں نہایت اختصار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قول کا ذکر کرتا ہوں جو آپ نے بنی نوع انسان کی صنف نازک یعنی عورت کے متعلق ارشاد فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ہی میں مختصر طور پر آپ کی بعض دوسری حدیثوں پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ کے اس سلوک کا بھی ذکر کروں گا جو آپ نے جذباتی رنگ میں اس صنف لطیف کے ساتھ فرمایا۔عورت کی فطرت کا نقشہ