مضامین بشیر (جلد 1) — Page 465
۴۶۵ مضامین بشیر قاصر ہیں کہ جو بات وہ اپنے منہ سے کہہ رہے ہیں وہ ان کے موافق پڑتی ہے یا کہ مخالف اور کمال جرات کے ساتھ ایسی بات پیش کرتے چلے جاتے ہیں جو خود انہی کو کاٹتی ہے۔یہ سب کچھ میں نے جناب مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ادعا کو مدنظر رکھ کر اصولی طور پر لکھا ہے ورنہ میرے نزدیک حق وہی ہے جو میں نے اپنے رسالہ ” مسئلہ جنازہ کی حقیقت اور اس مضمون کے اوپر کے حصہ میں بوضاحت عرض کر چکا ہوں۔واللہ اعلم غیر مبایعین سے مخلصانہ عرض بالآخر میں پھر بڑے ادب کے ساتھ غیر مبایعین اصحاب کی خدمت میں عرض کروں گا کہ وہ خدا کے لئے اس معاملہ میں سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور یونہی تعصب کا شکار ہو کر خلاف تقوی رستہ پر قدم زن نہ ہوں۔مومن کا ہر کام تقویٰ پر مبنی ہونا چاہیئے کیونکہ تقویٰ ہی سب انسانی اعمال کی روح ہے جس کے بغیر کوئی زندگی نہیں۔دنیا میں مرغ بازوں کے سے جنگ اور ان جنگوں کے دیکھنے والے بہت ہیں مگر ہم خدائے پاک کی جماعت اور مسیح محمدی کے نام لیوا ہوکر دین و مذہب کے مقدس میدان میں کیچڑ اچھالتے ہوئے اور کیچڑ اچھالنے والوں کو سراہتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔پس میری یہ آخری عرض ہے کہ اگر دیانتداری کے ساتھ اختلاف رکھتے ہو اور نیت بخیر ہے تو تقویٰ کو مد نظر رکھ کر میدان میں آؤ اور شوق سے آؤ اور ہر بحث کی عمارت کو انصاف اور حق جوئی کی بنیاد پر قائم کرد۔ورنہ خدا کے لئے خاموش ہو جاؤ اور اپنی عاقبت کو اپنے ہاتھوں سے برباد نہ کرو۔ورنہ آپ لوگوں کی مرضی۔وما علينا الا البلاغ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔( مطبوعہ الفضل ۲ جولائی ۱۹۴۱ء )