مضامین بشیر (جلد 1) — Page 464
مضامین بشیر ۴۶۴ اسی ضمن میں میں ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے جناب مولوی محمد علی صاحب اپنے رسالہ ” ثالث بننے کی دعوت، میں اور ایڈیٹر صاحب ”پیغام صلح “ نے اپنے مضمون زیر نظر میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا فضل احمد صاحب کے جنازہ سے اس لئے احتراز کیا تھا کہ ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے رشتہ داروں کے ساتھ تھا جو مخالف اور معاند تھے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ان کے جنازہ سے احتراز کرنا اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ احمدی نہیں تھے بلکہ اس وجہ سے تھا کہ سلسلہ کے مخالفین کے ساتھ ان کا میل جول تھا۔اس بات پر مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے غیر مبایعین نے اس قدر زور دیا ہے که گویا مرزا فضل احمد صاحب کے جنازہ کی بحث میں یہی ان کے دلائل کا مرکزی نقطہ ہے مگر مجھے تعجب آتا ہے کہ ہمارے یہ بھٹکے ہوئے دوست اپنے بے جا جوش وخروش میں حق وصداقت کی طرف سے کس طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور ایسی باتیں کہنے لگ جاتے ہیں جو اگر غور کیا جائے تو حقیقیہ خود انہیں کے خلاف پڑتی ہیں مثلاً اسی بات کو لے لو جو اس بحث میں غیر مبالع اصحاب پیش کر رہے ہیں۔ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مرز افضل احمد صاحب کے جنازہ سے احتراز کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ گو خود فرمانبردار اور مؤدب تھے مگر سلسلہ کے مخالفوں کے ساتھ ان کا میل جول تھا تو اس سے سوائے اس کے کیا ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت اور تکذیب ایسی چیز ہے کہ نہ صرف خود مخالفت کرنے والا انسان خدا کی رحمت اور مومنوں کی دعاؤں سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والا انسان بھی خدائی دربار سے دھتکارا جاتا ہے اور مومنوں کی دعاؤں سے حصہ نہیں پاسکتا۔خوب غور کرو کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کے استدلال کا قدرتی اور طبعی نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں نکلتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت ایسی لعنت ہے کہ وہ نہ صرف مخالفت کرنے والوں کو بلکہ ان کے پاس بیٹھنے والوں کو بھی تباہ و بربادکر کے چھوڑتی ہے گویا یک نہ شد دو شد والا معاملہ ہے۔بہر حال ہر عقلمند انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ مولوی صاحب کے استدلال کا نتیجہ ہمارے حق میں ہے نہ کہ ہمارے خلاف۔کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار اور آپ کے خدا داد منصب کی مخالفت ایسی خطرناک چیز ہے کہ نہ صرف مخالفت کرنے والا انسان بلکہ مخالفت کرنے والوں کے ساتھ ملنے جلنے والا انسان بھی خدائی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے خواہ وہ خود بظاہر مخالفت وغیرہ کے طریق سے کتنا ہی دور اور کنارہ کش رہے۔یہ وہ منطقی نتیجہ ہے جو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے استدلال سے پیدا ہوتا ہے مگر افسوس ہے کہ یہ لوگ اتنی موٹی سی بات کے سمجھنے سے بھی