مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 459 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 459

۴۵۹ مضامین بشیر کے ساتھ اشتہار کے ذکر کو جو اس بحث میں اصل بنیاد تھا ترک کر کے اور اپنی خیانت پر پردہ ڈال کر بحث کے میدان کو سیرۃ المہدی کی ایک روایت کی طرف کھینچا جا رہا ہے۔ہمیں غیر مبایعین کی نقل و حرکت پر تو کوئی اختیار نہیں وہ اپنے لئے جو حرکت بھی پسند کریں اختیار کر سکتے ہیں مگر ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ان کی طرف سے یہ فعل گو یا بالفاظ دیگر خود اپنے مونہہ سے اس اقرار کرنے کے مترادف ہے کہ ہم نے اشتہار مذکور کی بنیاد پر جو کچھ لکھا تھا اور جو دعوئی اس قدر تحدی اور تفاخر کے ساتھ کیا تھا وہ واقعی خیانت اور بدیانتی پر مبنی تھا اور یہ کہ اشتہار مذکور کے ماتحت مرز افضل احمد صاحب حقیقتہ عاق نہیں ہوئے تھے۔انعامی مطالبہ اب بھی قائم ہے بہر حال جناب مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار مؤرخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء کی بناء پر ایک سوال اٹھایا اور میں نے اس سوال پر ایک جرح کی اور یہ ثابت کیا کہ مولوی صاحب موصوف نے اشتہار مذکور کی عبارت کو خطر ناک تصرف کے ساتھ کاٹ چھانٹ کر پیش کیا ہے اور ایک مشروط کلام کو غیر مشروط صورت میں پیش کر کے خلق خدا کو دھوکا دینا چاہا ہے اور میں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر مولوی صاحب نے اشتہار مذکور کے تعلق میں نا جائز تصرف سے کام نہیں لیا اور اس اشتہار کی بناء پر مرزا فضل احمد صاحب کے بارے میں صحیح اور درست استدلال کیا ہے تو میں مولوی صاحب کے حلفیہ بیان پر ان کی خدمت میں ایک سو رو پید ا نعام پیش کر دوں گا۔میرا یہ مطالبہ جس کے ساتھ یہ ایک غریبانہ انعام بھی شامل ہے اب بھی قائم ہے۔پس اگر مولوی صاحب یا ان کے ساتھیوں میں ہمت ہے اور ان کا سابقہ بیان تقوی اور امانت پر مبنی تھا تو ابھی وقت نہیں گیا ، وہ حق وصداقت کی خاطر میدان میں آئیں اور میرے مطالبہ کے مطابق قسم کھا جائیں اور انعام وصول کر لیں مگر مجھے یقین ہے وہ کبھی اس میدان میں نکلنے کی جرات نہیں کریں گے کیونکہ ان کا دل محسوس کرتا ہے کہ وہ اس بحث میں ایک خلاف دیانت فعل کے مرتکب ہو چکے ہیں اور ایک خلاف دیانت فعل کا مرتکب انسان کبھی اس جرات کا مالک نہیں ہوتا جو خدا کی طرف سے ایک امین اور متقی انسان کو ملتی ہے قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔سیرت المہدی کی روایت کی حقیقت باقی رہا سیرت المہدی کی روایت کا معاملہ سو اصولی طور پر تو اس کا یہی جواب کافی ہے کہ اشتہار