مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 454 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 454

مضامین بشیر ۴۵۴ کہ خدائے قدوس اور اس کے پاک فرشتے مجھے دین و مذہب کے مقدس میدان میں جس کے تقدس کو خدا کے ازلی تقدس سے حصہ ملا ہے ایک نا پاک کھیل میں مصروف دیکھیں۔66 اسی قسم کے خیالات اور احساسات کے ماتحت میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میرے رسالہ ” مسئلہ جنازہ کی حقیقت پر جو کچھ ”پیغام صلح کے کالموں میں لکھا جا رہا ہے یا خطبات وغیرہ میں بیان کیا جا رہا ہے ، میں اس پر خاموشی اختیار کروں گا کیونکہ علاوہ اس وجہ کے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جو مضامین اور خطبات میرے علم میں آئے تھے ( اور میں خیال کرتا ہوں کہ غالباً اکثر حصہ میرے علم میں آگیا ہو گا۔گو قلیل حصہ ضرور ایسا بھی ہو گا جو میرے علم میں نہیں آیا ) ان سے میں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب ہمارے روٹھے ہوئے بھائیوں کے ہاتھ میں تکرار کے دل خوشکن مشغلہ کے سوا اور کچھ نہیں اور محض ظاہری لفافہ بدل کر یا بعض صورتوں میں لفافہ بدلے بغیر ہی پہلی باتوں کو دہرایا جارہا ہے۔ان باتوں نے میرے دل پر سخت ناگوار اثر پیدا کیا اور میں نے یہ ارادہ کیا کہ جب تک موجودہ صورت قائم ہے میں آئیندہ اس بحث میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کروں گا کیونکہ جب میں نے جناب مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ہم عقیدہ اصحاب کی ہر بات کا مدلل اور مفصل جواب دے دیا اور پوری پوری تشریح اور توضیح کے ساتھ ہر بات کی حقیقت اور ہر حقیقت کی دلیل بیان کر دی تو پھر ایسے خصم کو جواب دینا جو ہمارے بیان کردہ حقائق اور پیش کردہ براہین کو دلائل اور شواہد کے ساتھ رڈ کرنے کے بغیر محض ” نہ مانوں کے اصول کے ماتحت اپنی سابقہ بات کو دہرائے چلا جاتا ہے تصیح اوقات کے سوا کچھ نہیں اور کم از کم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدام کو جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ أَنتَ الشَّيْحُ الْمَسِيحُ الَّذِى لَا يُضَاعُ وَقْتُه تفصیح اوقات کے مشغلہ سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔پیغام صلح کا اعتراض بہر حال میرا ارادہ تھا کہ اب جب تک ہمارے مقابلہ پر کوئی حقیقتہ نئی بات پیش نہ کی جائے ، میں اس کیچڑ اچھالنے والی جنگ سے کنارہ کش رہوں گا اور اسی خیال کے تحت میں نے آج تک عملاً خاموشی اختیار کی کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ اول تو محض تکرار سے کام لیا جا رہا ہے دوسرے اس تکرار میں بھی تقوی سے کام نہیں لیا جا رہا لیکن حال ہی میں میرے نوٹس میں ”پیغام صلح “ کا پرچہ مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۱۴ ء لا یا گیا ہے جس میں میرے رسالہ کے جواب میں ایک مضمون مرز افضل احمد صاحب