مضامین بشیر (جلد 1) — Page 451
۴۵۱ مسئلہ جنازہ میں غیر مبایعین کا افسوس ناک رویہ مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج مضامین بشیر گزشتہ جلسہ سالانہ کے قریب جناب مولوی محمد علی صاحب ایم اے امیر غیر مبایعین نے مسئلہ جنازہ غیر احمدیان کے متعلق ایک پندرہ صفحہ کا رسالہ موسومہ ثالث بننے کی دعوت “ لکھ کر شائع کیا تھا اور اس رسالہ میں جماعت احمدیہ قادیان کو نہایت نا واجب تحدی کے رنگ میں چیلنج دیا تھا کہ کوئی شخص ثالث بن کر میدان میں آئے اور ہمارے سوالات کا جواب دے اور انتہائی جرات سے کام لیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا گیا تھا کہ ہمیں کسی دلیل یا بحث وغیرہ کی ضرورت نہیں صرف بلا دلیل دوحرفہ فیصلہ کافی ہے وغیرہ وغیرہ۔مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کا جواب میں نے خدا کے فضل سے اس رسالہ کا جواب لکھا اور لوگوں کے فائدہ کے خیال سے دوحرفہ اور بلا دلیل بیان کی بجائے ایک مفصل اور مدلل مضمون تحریر کر کے ثابت کیا کہ اول : جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں حوالہ جات کے پیش کرنے میں نہایت نا واجب تصرف سے کام لیا ہے اور حوالوں کو صحیح صورت میں پیش کرنے کی بجائے اپنے مفید مطلب صورت میں کاٹ چھانٹ کر درج کیا ہے ( مسئلہ جنازہ کی حقیقت صفحہ ۵ تا ۲۰ صفحہ ا۷ تا ۶ ۷ وصفحہ ۷ ۱۸ تا ۱۹۵ و غیره) دوم : مولوی صاحب موصوف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے جو یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیر احمد یوں کا جنازہ جائز ہے وہ ہرگز ہرگز درست نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں کے بغور مطالعہ سے سوائے اس کے کوئی اور بات ثابت نہیں ہوتی کہ آپ کے نزدیک صرف مصدقین احمدیت کا جنازہ ہی جائز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سچا جانتے اور احمدیت کی صداقت کے قائل اور معترف ہیں اور یہ کہ کسی مکذب یا منکر احمدیت کا جنازہ ہرگز جائز نہیں ( سارا رسالہ اور خلاصہ بحث کے لئے دیکھو صفحہ ۱۳۸ تا ۱۴۲ و غیره )