مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 445 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 445

۴۴۵ مضامین بشیر دریا بہا دیا ہے اس لئے طبعا لوگوں کو اپنے حافظہ سے اتنا کام لینا نہیں پڑتا جتنا پہلے زمانہ میں لینا پڑتا تھا۔جس کا لازمی نتیجہ اس صورت میں ظاہر ہو رہا ہے کہ مشق کی کمی کی وجہ سے لوگوں کے حافظے کمزور ہو گئے ہیں اور موٹی موٹی باتیں بھی بہت جلد ذہن سے اتر جاتی ہیں۔بے شک نسیان ایک فطری خاصہ ہے۔اور یہ خاصہ ہر زمانہ میں موجود رہا ہے مگر پہلے زمانوں کے نسیان اور موجودہ زمانہ کے نسیان میں بہت بھاری فرق ہے یعنی اگر گزشتہ زمانوں کے لوگ سو میں سے دس باتیں بھولتے تھے تو اس زمانہ کے لوگ سو میں سے پچاس باتیں بھول جاتے ہیں۔والشاذ كالمعدوم بہر حال یہ ایک بین حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں حافظہ کا وہ حال نہیں جو پہلے زمانوں میں تھا۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ موجودہ زمانہ میں روایات کے جمع کرنے میں خاص احتیاط سے کام لیں تا کہ کمزور اور غلط روایتیں ہمارے لٹریچر میں راہ پا کر ہماری تاریخ اور ہماری تعلیم اور ہماری تہذیب کو خراب نہ کر دیں بلکہ حق یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمیں روایتی علم کی اس قدرضرورت نہیں جتنی کہ پہلے زمانوں میں تھی کیونکہ موجودہ زمانہ میں کتب اور اخبارات وغیرہ کی اشاعت کی وجہ سے تاریخ اور تعلیم کا بیشتر حصہ ساتھ ساتھ ضبط میں آتا جاتا ہے اور زبانی روایتوں کی چنداں حاجت نہیں رہتی لیکن پھر بھی چونکہ بعض امور میں زبانی روایتیں مزید روشنی کا باعث ہو سکتی ہیں اور ہر بات اخبارات اور کتب وغیرہ کے ذریعہ ساتھ ساتھ ضبط میں آنی مشکل ہوتی ہے اس لئے اس حصہ کو بالکل نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا مگر ظا ہر ہے کہ موجودہ زمانہ میں اس بات کی از حد ضرورت ہے کہ روایتوں کے جمع کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے۔اس معاملہ میں میں خود صاحب تجربہ ہوں کیونکہ سیرۃ المہدی کے لئے میں نے بھی ایک زمانہ میں بہت سی روایتوں کو جمع کیا تھا لیکن میرے اس تجربہ نے بھی مجھے اس تلخ حقیقت کا مزہ چکھایا ہے کہ با وجود کافی احتیاط کے کمزور روایتیں ہمارے مجموعوں میں رستہ پالیتی ہیں اور جب ایک دفعہ کوئی ایسی بات معرض اشاعت میں آجاتی ہے تو پھر بعد میں اس کا ازالہ سخت مشکل ہو جاتا ہے۔بے شک عقلمند اور شریف مزاج اور انصاف پسند لوگ زبانی روایتوں کی قدر و قیمت کو پہچانتے ہیں اور انہیں اس سے زیادہ وزن نہیں دیتے جو ان کا حق ہے اور ہر قوم کو اس کے مسلمہ اصولوں اور مستند تحریوں کے پیمانہ سے ناپتے ہیں اور محض کسی زبانی روایت پر جو مستند تحریروں کے خلاف ہو اپنی رائے یا فیصلہ کی بنیاد نہیں رکھتے مگر مشکل یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمیں زیادہ تر ایسے دشمن کے ساتھ واسطہ پڑا ہے جو اپنی خوردہ گیری اور طعنہ زنی اور بے انصافی میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے اور صحیح اصولوں پر منصفانہ اور فیاضیا نہ رنگ میں بحث کرنا نہیں جانتا اور اس کی اس پست ذہنیت کی وجہ سے ہم پر بھی لازماً بہت زیادہ ذمہ داری