مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 444 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 444

مضامین بشیر ۴۴۴ روایتوں کے جمع کرنے میں خاص احتیاط کی ضرورت کچھ عرصہ ہوا یعنی ۲۹ جنوری ۱۹۴۱ء کے الفضل میں ایک صاحب میاں مہر اللہ صاحب کی ایک روایت شائع ہوئی تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان میں فنانشل کمشنر کی آمد کا ذکر تھا اس روایت میں باوجود اس کے کہ راوی صاحب نے اپنا چشم دید واقعہ بیان کیا تھا۔یہ صریح غلطی تھی کہ اول تو فنانشل کمشنر کی جگہ کمشنر درج تھا دوسرے میاں مہر اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ بیان کیا تھا کہ آپ خود فنانشل کمشنر کے استقبال میں شریک ہوئے تھے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام استقبال میں شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ جہاں تک قادیان سے باہر جا کر استقبال کرنے کا معاملہ تھا، آپ نے اس غرض کے لئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم وغیرہ کو آگے بھجوایا تھا اور جو استقبال فنانشل کمشنر صاحب کا قادیان کے اندر یعنی ریتی چھلہ کے میدان میں ہوا تھا۔اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود شریک نہیں ہوئے تھے۔نیز اس روایت کی تصحیح تو بعد میں مکرمی بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے الفضل ” مورخہ ۴ فروری و الفضل‘ مورخہ 9 فروری میں کر دی تھی اور الحکم “ اور ”بدر“ کے فائلوں میں بھی اصل واقعہ کا اندراج موجود ہے مگر مجھے اس روایت پر خیال آیا کہ اس زمانہ میں روایتوں کا کیا حال ہے کہ ایک شخص کے سامنے ایک سارا واقعہ گزرتا ہے مگر چند سال کے بعد اسے ایسی موٹی بات بھی یاد نہیں رہتی کہ آیا اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شریک ہوئے تھے یا نہیں؟ پھر جب میں نے اس معاملہ پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ دراصل ہر زمانہ کے حالات کے مطابق انسانی قوی اور انسانی طاقتوں کی تربیت جدا جدا ظہور پذیر ہوتی ہے۔قدیم زمانہ میں چونکہ لکھنے پڑھنے کا رواج بہت کم تھا اور ابھی تک پر لیس بھی ایجاد نہیں ہوا تھا اور کتب اور رسالہ جات اور اخبارات بھی گویا بالکل مفقود تھے۔اس لئے طبعا اس قسم کے ماحول میں انسان کو اپنی قوت حافظہ سے زیادہ کام لینا پڑتا تھا۔جس کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ مشق اور مزاولت کی کثرت کی وجہ سے لوگوں کے حافظے بہت ترقی کر گئے تھے لیکن موجود وہ زمانہ میں جبکہ لکھنے پڑھنے کا رواج بہت زیادہ ہو گیا ہے اور پھر پریس کی ایجاد نے بھی گویا کتب اور اخبارات کی اشاعت کا ایک