مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 435 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 435

۴۳۵ مضامین بشیر کا پروپیگنڈا ہوتا تو چاہئے یہ تھا کہ یہ تحریک فروری یا زیادہ سے زیادہ مارچ ۴۰ ء سے شروع ہو جاتی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ تحریک حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی وصیت کے بعد آخر جولائی میں جا کر شروع ہوئی اور اس بارے میں میرے مضامین تو اس سے بھی بعد یعنی اکتوبر ۱۹۴۰ء میں آکر شائع ہوئے اور جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں، حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وصیت میں صراحتا یہ ذکر کیا تھا کہ بعض دوستوں کو میرے متعلق اس قسم کی خوا ہیں آئی ہیں کہ میرا زمانہ وفات قریب ہے۔اس لئے گو خوا میں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور صدقہ وخیرات سے معلق تقادیر یل بھی جاتی ہیں لیکن چونکہ بہر حال ہر شخص نے بالآخر مرنا ہے۔اس لئے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ اپنی طرف سے ایک وصیت لکھ کر شائع کر دوں۔اسی طرح میرے مضامین میں بھی اپنے دوستوں کی خوابوں کی طرف ہی اشارہ تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ اہل پیغام کا یہ ادعا کہ دعاؤں کی تحریک مزعومہ پیشگوئی سے خائف ہونے کی وجہ سے کی گئی ہے، ایک سراسر جھوٹا اور باطل ادعا ہے جو اپنی دلآزاری میں انتہا ء کو پہونچا ہوا ہے۔دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھا جائے میرے اس نوٹ سے ہمارئے دوستوں کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے متعلق دعا کی تحریک اب تک قائم ہے اور گو خدا کے فضل سے بدخواہ دشمن نا مرادی کو پہونچ چکا ہے لیکن چونکہ ہماری دعا کی تحریک دوسری وجوہات پر مینی ہے، اس لئے احباب کو ان خاص دعاؤں کا سلسلہ اب بھی جاری رکھنا چاہیئے۔واخرد عونا ان الحمد لله رب العالمين ( مطبوعه الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۴۱ء)