مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 434 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 434

مضامین بشیر ۴۳۴ علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے اس حد تک بغض و عناد پیدا ہو چکا ہے کہ وہ اِن الہامات کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد پر چسپاں کرنے سے دریغ نہیں کرتے جو احمدیت کے اشد ترین دشمنوں کی تباہی سے تعلق رکھتے ہیں۔غیر مبایعین کا سراسر جھوٹا اور باطل ادعا غیر مبایعین نے اسی بات پر اکتفا نہیں کی کہ ایسے شخص کے پیچھے لگ کر جس کی دماغی کیفیت سے وہ خوب آگاہ تھے، اس الہام کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز پر چسپاں کیا اور پھر آپ کی عمر کی باون سال کی گھڑیاں گن گن کر خوشی کے خواب دیکھنے لگے بلکہ جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے متعلق ہماری دعا کی تحریکوں کو بھی استہزاء کی نظر سے دیکھ کر یہ طعن دنیا شروع کیا کہ گویا ہم لوگ اس مزعومہ پیشگوئی سے خائف ہوکر لرزہ براندام ہورہے ہیں اور ہماری دعا کی تحریک اسی خوف پر بنی ہے۔اگر میری یہ اطلاع درست ہے تو یہ ایک انتہا درجہ کی گری ہوئی ذہنیت ہے جس میں جھوٹ اور دل آزاری ہر دو کا پورا پورا اخمیر پایا جاتا ہے۔حق یہ ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق دعا کی تحریک شیخ غلام محمد کی نام نہاد پیشگوئی اور اس پر اہل پیغام کی حاشیہ آرائی کی وجہ سے نہیں تھی۔بلکہ جیسا کہ ہمارے مضامین میں بار بار یہ تصریح کی گئی تھی۔یہ تحریک ان خوابوں کی وجہ سے تھی جو جماعت کے بعض افراد کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں دکھائی گئی تھیں اور گوخوا میں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور بعض اوقات ان کا تعلق آخری تقدیر کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ کسی درمیانی معلق تقدیر کے ساتھ ہوتا ہے لیکن چونکہ دوسرے پہلو کا امکان بھی ہوتا ہے اس لئے سنت اللہ کے مطابق حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی درازی عمر کے لئے دعا کی تحریک کی گئی۔اس بات کا ثبوت کہ یہ دعا کی تحریک شیخ غلام محمد مدعی مصلح موعود یا اہلِ پیغام کی بیان کردہ پیشگوئی کی وجہ سے ہر گز نہیں تھی بلکہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی وصیت اور بعض احباب جماعت کی خوابوں کی وجہ سے تھی ، یہ ہے کہ یہ دعا کی تحریکات حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی وصیت کے شائع ہونے کے بعد کی گئیں جو آخر جولائی ۱۹۴۰ء میں شائع ہوئی تھی ھے۔حالانکہ شیخ غلام محمد کا رسالہ جس میں ۱۲ جنوری ۱۹۴۱ ء تک حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ ہلاکت کی خبر دی گئی تھی فروری ۱۹۰۴ء میں شائع ہوا تھا ( دیکھو شیخ صاحب کا رسالہ ” خلیفہ قادیان کے جشن منانے کی دو جھوٹی خوشیاں“ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۴۰ ء ) پس اگر دعاؤں کی تحریک کا باعث شیخ غلام محمد والا مضمون یا اہل پیغام