مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 425 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 425

۴۲۵ مضامین بشیر امیر قوم سے توقع نہیں رکھی جاسکتی۔اسلام نے جہاں ہر چیز کے حقوق مقر ر فرمائے ہیں اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہر چیز کے حقوق کا خیال رکھو اور ایک چیز کا حق دوسرے کو نہ دو ( حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنے نفس یا اپنی بیوی کا حق چھین کر خدا کو دیتا ہے وہ بھی خدا کی نظر میں مجرم ہے ) وہاں اسلام نے فطرت انسانی کے ازلی قانون کے ماتحت انسان کو یہ رعایت بھی دی ہے اور یہ رعایت سرا سر رحمت پر مبنی ہے۔کہ اگر کوئی ایسی فوری ضرورت ہو جو بالکل تمہاری آنکھوں کے سامنے آئی ہوئی ہو اور اس کی وجہ سے تمہارے دل و دماغ پر بوجھ ہو تو تمہیں چاہیئے کہ ایسی ضرورت کو دور کی ضرورت پر خواہ وہ زیادہ ہی اہم ہو ، مقدم کر لیا کرو۔یہ بات میں نے صرف اصولی جواب کے طور پر بیان کی ہے ورنہ در حقیقت موجودہ معاملہ میں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ اول تو حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعا میں اسلام اور احمدیت کی دعا بھی شامل ہے اور دوسرے بہر حال اس دعا کو اسلام اور احمدیت کی دعا سے مؤخر رکھا گیا ہے۔مولوی محمد علی صاحب سے ایک سوال - ، آخر الذکر نکتہ کو ایک اور طرح بھی واضح کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ جناب مولوی صاحب کی دبی ہوئی فطرت کو خود ان کے اہل وعیال کی مثال سے بیدار کیا جائے۔سو میں مولوی صاحب مکرم سے بادب پوچھتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ آپ کا کوئی نوجوان اور ہونہار لڑکا کسی خطر ناک مرض میں مبتلا ہو جائے اور مرض اس حد تک پہونچ جائے کہ ڈاکٹر اور اطباء مایوس ہو کر جواب دے دیں اور یہ لڑکا آپ کو بہت محبوب ہو تو کیا آپ ایسے وقت میں ایسے لڑکے کے متعلق یہ متصوفانہ الفاظ فرما کر خاموش ہو جا ئیں گے کہ مٹی کا پتلا ہے آج نہیں مرے گا تو کل مر جائے گا یا کہ مادی اسباب کو کشتا دیکھ کر اور اپنے لخت جگر کو موت کے مونہہ میں پا کر آپ فوراً وضو کر کے کسی علیحدہ کمرہ کی طرف بھاگیں گے اور اس کے دروازوں کو بند کر کے خدا کے حضور روتے اور چلاتے ہوئے سجدہ میں گر جائیں گے کہ اے خدا تو میرے اس نور چشم کی زندگی مجھے بخش دے اور مجھے اس کی موت کے صدمہ سے محفوظ رکھ۔پھر وہاں مولوی صاحب کیا اس وقت آپ کی پہلی دعا بڑے بزرگانہ انداز میں اسلام اور حق وصداقت کی ترقی کے لئے ہوگی یا کہ آپ سجدہ میں گرتے ہی اپنے صاحبزادہ کے لئے آہ وزاری شروع فرما دیں گے۔میں بڑے شوق سے انتظار کروں گا کہ میرے اس سوال کے جواب میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں مگر مجھے