مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 426 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 426

مضامین بشیر ۴۲۶ آپ کی زبان یا قلم کے جواب کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ چیز میں اکثر صورتوں میں طرح طرح کی ظلمتوں سے گھری رہتی ہیں بلکہ مجھے دل کے جواب کی ضرورت ہے جو عمو ماً ظلمتوں کے پردہ سے نسبتاً آزا د ر ہتا ہے۔مگر کیا کیا جائے کہ بعض لوگوں کے دل بھی مر جاتے ہیں۔بہر حال اگر آپ کو اپنے فرزند کے متعلق اتنا فکر ہو سکتا ہے تو ایک زندہ اور ترقی کرنے والی جماعت کو اپنے محبوب جرنیل اور قائد کے متعلق کیوں نہیں ہوسکتا۔دشمنی کا نتیجہ آخر میں میں اس افسوس کے اظہار سے بھی نہیں رک سکتا کہ مولوی محمد علی صاحب نے اس معاملہ میں بلا وجہ اور بلا کسی خاص ضرورت کے اپنا رستہ چھوڑ کر ہماری دل آزاری کا طریق اختیار کیا ہے۔حضرت خلیفۃ اصیح ایدہ اللہ کے لئے دعا کا سوال ہرگز ان اختلافی مسائل میں سے نہیں ہے جو اس وقت ہر دو فریق کے درمیان رونما ہیں پھر خواہ نخواہ اسے اپنے اعتراضات کا نشانہ بنا کر ایک وسیع جماعت کے دلوں کو دکھ پہنچانا ہرگز کوئی پسندیدہ یا خوش اخلاقی کا فعل نہیں سمجھا جا سکتا۔ہم دعا کی تحریک کے لئے مولوی صاحب کے پاس نہیں گئے تھے بلکہ صرف اپنے دوستوں اور ہم خیالوں سے ایک بات کہی تھی اور وہ بات سنت اللہ اور فطرت انسانی کے عین مطابق تھی اور پھر اس میں بھی ہماری نیت میں احمدیت اور اسلام کی بہبودی ہی مقصود تھی مگر افسوس کہ مولوی صاحب کو یہ بات بھی کھٹکنے سے نہ رہی اور انہوں نے ایک وسیع جماعت کے ان نازک ترین جذبات محبت پر تیر چلایا ہے جو وہ اپنے محبوب امام کے متعلق رکھتی ہے۔یہ محض دشمنی کا نتیجہ ہے جو دلوں کو اندھا کر دیتی ہے ورنہ ایک سمجھدار انسان خواہ وہ دیندار نہ بھی ہو۔عام حالات میں اس قسم کے خلاف اخلاق اور دل آزار طریق سے مجتنب رہتا ہے۔آنے والی جمعہ کی رات کو دعائیں کی جائیں اس جملہ معترضہ کے بعد جو میرے ابتدائی اندازے سے کافی لمبا ہو گیا ہے میں پھر جماعت سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی ایک نیک بہن کی خواب کو پورا کرنے کے لئے جس کا پورا کرنا عین منشاء اسلام اور مفاد احمدیت کے مطابق ہے انہیں چاہیئے کہ اس آنے والے جمعہ کی رات کو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص طور پر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ رکھ کر آپ کے مبارک سایہ کو ہمارے سروں