مضامین بشیر (جلد 1) — Page 36
مضامین بشیر ۳۶ میں نے استدلالات نہیں کئے اور صرف روایات کو جمع کر دیا ہے لیکن جہاں جہاں کسی روایت کے متعلق تشریح کی ضرورت محسوس کی ہے وہاں ساتھ ساتھ تشریحی نوٹ درج کر دیئے ہیں مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے استدلال و استنباط اور تشریحات میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے مجھے اپنے اعتراض کا نشانہ بنالیا ہے ہاں بے شک میں نے ایک دو جگہ بعض بحثیں بھی کسی قدر طول کے ساتھ کی ہیں لیکن ان بحثوں کو استدلالات اور تشریحات ہر دو کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے کیونکہ نہ تو وہ استدلال کہلا سکتی ہیں اور نہ ہی تشریح کا مفہوم ان پر عائد ہوتا ہے بلکہ وہ ایک الگ مستقل چیز ہیں جن کی ضرورت کو محسوس کر کے میں نے انہیں درج کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان بحثوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ وسوانح کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے اور آپ کے مقام کو کما حقہ سمجھنے کے لئے ان کا جاننا ضروریات سے ہے مثلاً یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تعلیم و تربیت کے ماتحت کیسی جماعت تیار کی ہے ایک نہایت ہی ضروری سوال ہے جسے کوئی دانشمند مؤرخ آپ کی سیرۃ سے خارج کرنے کا خیال دل میں نہیں لاسکتا۔بے شک ڈاکٹر صاحب موصوف یا کوئی اور صاحب یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو خیال ظاہر کیا گیا ہے وہ درست نہیں اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم و تربیت کا اثر کوئی خاص طور پر اچھا نہیں ہے بلکہ معمولی ہے لیکن اس بات کو بہر حال تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ بحث آپ کی سیرۃ سے ایک گہراتعلق رکھتی ہے جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس بحث کو ختم کرنے سے قبل میں ڈاکٹر صاحب کے اس اعتراض کے ایک اور حصہ کی طرف بھی ناظرین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :- مصنف کا دعوی ہے کہ میں نے صرف اس میں روایات جمع کی ہیں اور ترتیب اور استنباط و استدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا مگر اسی کتاب میں صفحوں کے صفحے مختلف کتابوں مثلاً براہین احمدیہ، سیرۃ مسیح موعود مصنفہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ، پنجاب چیفس اور مختلف اخبارات سے نقل کئے ہیں۔الخ گویا کتابوں اور اخباروں کی عبارتیں نقل کرنے کو ڈاکٹر صاحب استدلال و استنباط قرار دیتے ہیں مگر میں حیران ہوں کہ کسی کتاب یا اخبار سے کوئی عبارت نقل کرنا استدلال و استنباط کے حکم میں کیسے آ سکتا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی کے حالات اپنی کسی کتاب میں درج فرمائے اور میں نے وہ حصہ سیرۃ المہدی میں درج کر دیا یا پنجاب چیفس میں جو حالات آپ کے خاندان کے درج ہیں وہ میں نے اپنی کتاب میں درج کر دیئے یا کسی اخبار میں کوئی ایسی بات مجھے ملی جو آپ کی سیرۃ سے تعلق رکھتی تھی اور اسے میں نے لے لیا تو میرا یہ فعل استدلال و استنباط کیسے بن گیا؟