مضامین بشیر (جلد 1) — Page 35
۳۵ مضامین بشیر صاحب کا صرف ایک عبارت کو لے کر اعتراض کے لئے اٹھ کھڑا ہونا اور دوسری عبارت کا ذکر تک نہ کرنا کہاں تک عدل وانصاف پر مبنی سمجھا جاسکتا ہے۔میں نے اگر ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ میں نے اس کتاب میں استدلال نہیں کئے تو دوسری جگہ یہ عبارت بھی تو میرے ہی قلم سے نکلی ہوئی ہے کہ میں نے جا بجا تشریحی نوٹ دیئے ہیں۔اس صورت میں اگر ڈاکٹر صاحب ذرا وسعت حوصلہ سے کام لیتے اور میرے ان ” استدلالات کو جو ان کی طبیعت پر گراں گزرے ہیں۔وہ تشریحی نوٹ سمجھ لیتے جن کا میں نے اپنے عرض حال میں ذکر کیا ہے تو بعید از انصاف نہ تھا مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل و انصاف سے کام نہیں لیا۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں میں نے یہ لکھا ہے کہ اس کتاب میں ترتیب واستنباط واستدلال سے کام نہیں لیا گیا وہاں جیسا کہ میرے الفاظ سے ظاہر ہے وہ استدلالات مراد ہیں جو مختلف روایات کے ترتیب دینے کے نتیجہ میں ضروری ہوتے ہیں۔اور وہ تشریحی نوٹ مراد نہیں ہیں جو انفرادی طور پر روایات کے ساتھ دیئے جاتے ہیں کیونکہ دوسری جگہ میں نے خود صاف لکھ دیا ہے کہ میں نے جا بجا تشریحی نوٹ دیئے ہیں۔امید ہے یہ تشریح ڈاکٹر صاحب کی تسلی کے لئے کافی ہوگی۔وہ علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ جہاں میں نے استدلال واستنباط کا ذکر کیا ہے وہاں ود استدلالات بھی مراد ہیں جو واقعات سے سیرۃ واخلاق کے متعلق کئے جاتے ہیں یعنی منشاء یہ ہے کہ جو روایات بیان کی گئی ہیں اور جو واقعات زندگی ضبط تحریر میں لائے گئے ہیں ، ان سے بالعموم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ واخلاق کے متعلق استدلالات نہیں کئے گئے بلکہ ان کو صرف ایک مجموعہ کی صورت میں جمع کر لیا گیا ہے اور استدلال و استنباط کو کسی آئندہ وقت پر ملتوی کر دیا گیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کے استدلالات بھی ان تشریحی نوٹوں سے بالکل الگ حیثیت رکھتے ہیں جو کہ روایات کے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے ساتھ ساتھ دیئے جاتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں میں نے یہ لکھا ہے کہ استدلال و استنباط کا کام بعد میں ہوتا رہے گا وہاں دو قسم کے استدلالات مراد ہیں اول وہ استدلالات جن کی مختلف روایات کے ملانے اور ترتیب دینے سے ضروت پیش آتی ہے۔اور دوسرے وہ استدلالات جو روایات اور واقعات سے صاحب سیرۃ کے اخلاق و عادات کے متعلق کئے جاتے ہیں اور ان دونوں قسم کے استدلالات کو میں نے کسی آئندہ وقت پر چھوڑ دیا ہے۔والشاذ کالمعدوم باقی رہے وہ تشریحی نوٹ جو مختلف روایتوں کے متعلق درج کئے جانے ضروری تھے سو ان کو میں نے ملتوی نہیں کیا اور نہ ہی ان کا ملتوی کرنا درست تھا کیونکہ انہیں چھوڑ دینے سے غلط فہمی کا احتمال تھا جس کا بعد میں ازالہ مشکل ہو جاتا اور اسی لئے میں نے عرض حال میں یہ تصریح کر دی تھی کہ گو