مضامین بشیر (جلد 1) — Page 420
مضامین بشیر ۴۲۰ مقدر ہے اور انسان ایک مٹی کا پتلا ہے جو آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں تو پھر حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ کے متعلق دعا کو اس قدر اہمیت کیوں دی جا رہی ہے، جب کہ اسلام اور احمدیت کی ترقی اس بات کی بہت زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لئے دعائیں کی جائیں۔چنانچہ الفضل نے مولوی صاحب کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔خلیفہ یا اس کے چند مریدوں کو کچھ خوفناک خوا میں آگئیں۔اب ان پر اس قدر شور ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ساری دعائیں ہی خلیفہ کے لئے وقف کر دینی چاہئیں۔میں کہتا ہوں کہ انسان کی حیثیت ہی کیا ہے۔مٹی کا پتلا آج نہیں مرے گا تو کل مر جائے گا۔بے شک بیماروں کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔یہ ایک انسانی فرض ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ خدا کے قرب کے حصول اور غلبہ اسلام کے لئے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ دعائیں کرو۔‘‘۲۷ سراسر غلط نتیجه میں نے مولوی صاحب موصوف کا اصل مضمون نہیں دیکھا لیکن اگر الفضل کا یہ اقتباس درست ہے اور بظاہر کوئی وجہ نہیں کہ وہ درست نہ ہو تو افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اس موقع پر اس قسم کے خیالات کا اظہار کر کے نہ صرف تنگ ظرفی اور دل آزاری کا طریق اختیار کیا ہے بلکہ صحیح اسلامی فلسفہ سے بھی ایک نا قابل معافی غفلت دکھائی ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مولوی صاحب نے ہماری دعاؤں کی تحریک سے یہ سراسر غلط نتیجہ نکالا ہے کہ گویا ہم لوگ یہ تحریک کر رہے ہیں کہ اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعاؤں کو ترک کر کے اپنی ساری دعاؤں کو صرف حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی ذات تک محدود کر دیا جائے۔حالانکہ یہ بالکل غلط اور خلاف واقع ہے اور کسی مضمون یا کسی تقریر میں جس کا مجھے علم ہے ایسی تحریک نہیں کی گئی کہ اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے دعائیں نہ کرو اور صرف حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی ذات کے متعلق دعائیں کرو۔اگر جناب مولوی صاحب نے ہماری تحریرات اور خطبات سے یہ نتیجہ نکالا ہے تو میں افسوس کے ساتھ کہوں گا کہ یہ ایک دیانت دارانہ نتیجہ نہیں اور اگر ان کا یہ استدلال غفلت اور بے پروائی کا نتیجہ ہے تو پھر بھی یہ استدلال نه صرف نہائت بود بلکه از حد قابل افسوس ہے۔حق یہ ہے کہ جو تحریک کی گئی ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ ان ایام میں جبکہ مختلف لوگوں نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق منذ رخوا میں دیکھی