مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 414 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 414

مضامین بشیر ۴۱۴ خدا کا عشق ہے مسلمانو! بناؤ اور جام تقوى تام تقوی کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي ۲۳ یہ اشعار کیسے سادہ مگر حکمت و عرفان کی دولت سے کیسے معمور ہیں۔ان اشعار میں ایک شعر خاص طور پر قابل توجہ ہے کیونکہ اس شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کا فلسفہ بیان کیا ہے۔اور پھر اس شعر کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس کا دوسرا مصرع الہامی ہے۔یہ شعر یہ ہے : اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے ہر اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے ۲۴ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ جو سب نیکیوں کی جڑ ہے جس سے نیک اعمال کا درخت پیدا ہوتا ہے اور پھر اسی جڑ کی مہیا کردہ خوراک سے اس درخت کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔اگر یہ جڑ موجود ہے تو با وجود ساری شاخوں کے کٹ جانے کے درخت پھر ہرا بھرا ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ جڑ موجود نہیں تو باوجود بظاہر ہزاروں شاخوں کے نظر آنے کے یہ درخت بے ثمر ہے اور بے ثمر رہے گا۔کیونکہ اس صورت میں وہ شجر طبیہ نہیں بلکہ شجر خبیثہ ہے۔واقعی اعمال کا بظاہر ایک بھاری درخت جو ہزاروں شاخیں رکھتا ہے۔وہ اگر تقویٰ کی جڑ پر قائم نہیں تو وہ ایک ایندھن کے طومار سے زیادہ نہیں اور اس سے پھل کی امید رکھنا بے سود ہے لیکن اس کے مقابل پر اگر تقویٰ کی جڑ کے اوپر ایک چھوٹی سی شاخ بھی قائم ہے۔تو وہ ایک پھلدار چیز ہے۔جس سے ہزاروں شیریں پھل پیدا ہو سکتے ہیں اور اگر بالفرض کوئی شاخ بھی قائم نہیں تو پھر بھی اس سے ہر وقت نئی شاخ کے پھوٹنے کی توقع ہے کیونکہ جڑ سلامت ہے۔تقویٰ کے دو پہلو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان اشعار میں ایک شعرا کیسا ہے جو بظاہر اس مضمون کے خلاف نظر آتا ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔وہ شعر یہ ہے۔سنو ہے حاصل اسلام تقوی خدا کا عشق اور جام تقوی