مضامین بشیر (جلد 1) — Page 413
۴۱۳ مضامین بشیر قرآن ہو گا مگر ان کے دل کلام الہی سے اس طرح خالی ہوں گے جس طرح ایک اجڑا ہوا گھونسلا جانور سے خالی ہوتا ہے۔یہ سب حدیثیں اور ان جیسی بیسیوں دوسری حدیثیں اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے ہیں کہ اعمال میں اصل چیز ان کی روح ہے جس کا نام تقویٰ ہے اور تقویٰ کے بغیر ہر عمل صالحہ خواہ وہ بظا ہر کتنا ہی شان دار ہو ایک مردہ جسم سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔تقویٰ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی تحریرات اور ملفوظات میں تقویٰ پر بہت زور دیا ہے بلکہ چونکہ یہ زمانہ مادیت اور ظاہر پرستی کا زمانہ ہے۔اس لئے آپ کے کلام میں اعمال کی روح پر خاص زور پایا جاتا ہے۔چنانچہ آپ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں : ہمیں اس یار سے تقویٰ عطا ہے سے کہ احسانِ خدا ہے کرو کوشش اگر صدق و صفا جو شرط لقا حاصل ہو یہی آیینه خالق نما یہی ایک جو ہر سيف دعا اگر اک نیکی کی جڑ جڑ رہی ہے ہے ہے ہے اتقا ہے للللللللملل کچھ رہا ہے یہی اک فیر شان اولیاء ہے بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے سوچو یہی دار الجزاء ہے مجھے تقویٰ سے اُس نے یہ جزا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے سنو ! جس کا کام تقویٰ حاصل اسلام تقوی