مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 407 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 407

۴۰۷ ایک غاظ انہی کا ازالہ مضامین بشیر میں نے اپنے کل والے مضمون میں جس میں حضرت امیر المومنین خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کے متعلق دعا کی تحریک کی تھی۔یہ عرض کیا تھا کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک اس خطرہ کی اہمیت کو نہیں سمجھا جو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی وصیت میں مضمر ہے۔میرے اس خیال کا تازہ بتازہ ثبوت اس نوٹ سے بھی ملتا ہے جو میرے اس مضمون کے اختتام پر مکرمی ایڈیٹر صاحب الفضل نے اپنی طرف سے درج فرمایا ہے۔جناب ایڈیٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ آج کل حضرت صاحب کی طبیعت علیل ہے۔اس لئے (حضرت مرزا بشیر احمد (صاحب) کی تحریک کے مطابق دوستوں کو حضرت صاحب کی صحت کے لئے خاص توجہ سے دعا کرنی چاہیئے۔گویا ایڈیٹر صاحب نے میرے مضمون کا محرک حضرت صاحب کی موجودہ بیماری کو قرار دیدیا اور موجودہ بیماری کے دور ہو جانے سے وہ غالبا یہ خیال فرماتے ہیں کہ ہم اس خطرہ سے باہر آگئے جس کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے۔میں افسوس کرتا ہوں کہ ایڈیٹر صاحب کے اس نوٹ نے میرے مضمون کی اہمیت اور وسعت کو بالکل کم کر دیا ہے۔حق یہ ہے کہ میرے مضمون کو حضرت صاحب کی موجودہ بیماری کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ بیماری میرے مضمون کی محرک بنی ہے بلکہ اگر حضرت صاحب اس وقت اپنی پوری تندرستی کی حالت میں ہوتے تو پھر بھی میرا یہ مضمون شائع ہوتا کیونکہ اسے کسی عارضی اور وقتی حالت سے تعلق نہیں بلکہ اس کی بنیاد ان خوابوں پر ہے جو ایک آئیندہ آنے والے خطرہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔خواہ وہ موجودہ بیماری سے متعلق ہو یا کہ کسی آئندہ حادثہ کے متعلق۔میں امید کرتا ہوں کہ میرا یہ تشریحی نوٹ اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے کافی ہوگا۔جو محترمی ایڈیٹر صاحب کے نوٹ سے پیدا ہو سکتی ہے۔دوست حضرت صاحب کی موجودہ علالت طبع کے لئے تو دعا کرتے ہی ہوں گے اور کرنی چاہیئے مگر ان کی اصل اور خاص دعا اصولی طور پر حضرت صاحب کی دراز کی عمر اور عام صحت اور عافیت اور خوابوں سے ظاہر ہونے والے خطرہ کے دور ہونے کے لئے ہونی چاہیئے۔اگر میرے اس نوٹ کے بعد بھی کوئی غلط نہی رہی اور دوستوں نے اس معاملہ کی اہمیت کو نہ سمجھا تو میں یہ کہنے پر مجبور ہوں گا۔کہ مَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا۔( مطبوعه الفضل ۱۶ اکتوبر ۱۹۴۰ء )