مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 34 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 34

مضامین بشیر ۳۴ کام کو بعد کے لئے چھوڑ ا جانا بیان کیا گیا ہے حالانکہ خود کتاب کے اندر جابجا استدلالات موجود ہیں۔پس استدلالات کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ ایک غلط بیانی ہے اور گویا ناظرین کے ساتھ ایک دھوکا کیا گیا ہے۔اس کے جواب میں میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ اگر بالفرض اس عبارت کے وہی معنی ہوں جو ڈاکٹر صاحب نے لئے ہیں تو پھر بھی یہ کوئی غلط بیانی یا دھوکا بازی نہیں ہے جو قابل ملامت ہو بلکہ میرا یہ فعل قابل شکر یہ سمجھا جانا چاہیئے لیکن حق یہ ہے کہ اس عبارت کے وہ معنی ہی نہیں ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے قرار دیئے ہیں بلکہ اس میں صرف اس استدلال کا ذکر ہے جس کی ضرورت ترتیب کے نتیجہ میں پیش آتی ہے۔یعنی مراد یہ ہے کہ اس مجموعہ میں ترتیب ملحوظ نہیں رکھی گئی اور نہ وہ استدلالات کئے گئے ہیں جو مختلف روایات کے ملانے اور ترتیب دینے کے نتیجہ میں ضروری ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میرے الفاظ یہ ہیں :۔ترتیب و استنباط واستدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں وہ استدلال مراد ہے جو تر تیب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے نہ کہ وہ عام تشریحات جو انفرادی طور پر روایات کے ضمن میں دی جاتی ہیں۔چنانچہ میرے اس دعوی کی دلیل وہ الفاظ ہیں جو اس عبارت سے تھوڑی دور آگے چل کر میں نے لکھے ہیں اور جن کو ڈاکٹر صاحب نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔وہ الفاظ یہ ہیں :- میں نے جو بعض جگہ روایات کے اختتام پر اپنی طرف سے مختصر نوٹ دیئے ہیں۔۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس مجموعہ کے جمع کرنے میں میرے سب کا موں سے یہ کام زیادہ مشکل تھا۔بعض روایات یقیناً ایسی ہیں کہ اگر ان کو بغیر نوٹ کے چھوڑا جاتا تو ان کے اصل مفہوم کے متعلق غلط فہمی پیدا ہونے کا احتمال تھا مگر ایسے نوٹوں کی ذمہ واری کلینتہ خاکسار پر ہے۔‘ کے ان الفاظ کے ہوتے کوئی انصاف پسند شخص استنباط و استدلال سے وہ عام تشریحی نوٹ مراد نہیں لے سکتا جو انفرادی روایات کے متعلق بطور تشریح کے دیئے جاتے ہیں بلکہ اس سے وہی استدلالات مقصود سمجھے جائیں گے جن کی مختلف روایات کے ملانے اور ترتیب دینے کے نتیجہ میں ضرورت پیش آتی ہے۔ناظرین غور فرمائیں کہ ایک طرف تو میری طرف سے یہ نوٹ درج ہے کہ ترتیب اور استنباط واستدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا اور دوسری طرف اسی جگہ میری یہ تحریر موجود ہے کہ میں نے مختلف روایات کے متعلق تشریحی نوٹ دیئے ہیں۔اب ان دونوں تحریروں کے ہوتے ہوئے جو میرے ہی ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک ہی کتاب کے عرض حال میں ایک ہی جگہ موجود ہیں ، ڈاکٹر