مضامین بشیر (جلد 1) — Page 396
مضامین بشیر ۳۹۶ خان غلام محمد خان صاحب مرحوم آف میانوالی الفضل میں اخویم خان غلام محمد صاحب مرحوم کی وفات کی خبر شائع ہو چکی ہے۔خان صاحب مرحوم میرے ہم زلف تھے اور گو عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے مگر میری اور ان کی شادی ( جو دراصل ان کی دوسری شادی تھی ) ایک ہی دن اکٹھی ہوئی تھی۔جس کو آج چونتیس سال سے زائد عرصہ گزرتا ہے۔خان غلام محمد خان صاحب موصوف ابتدا میں میانوالی کے سرکاری سکول میں ہیڈ ماسٹر ہوتے تھے اور بہت کامیاب اور ہر دلعزیز ہیڈ ماسٹر سمجھے جاتے تھے۔اس کے بعد وہ ای-اے۔سی کے انتخاب میں آگئے اور کئی سال کی ملازمت کے بعد باعزت ریٹائر ہوئے مگر خوش قسمتی سے ریٹائر ہونے کے جلد بعد بھکر ضلع میانوالی کے قرضہ بورڈ میں چیئر مین مقرر ہو گئے اور اسی زمانہ میں وفات پائی۔مرحوم کی طبیعت بہت سادہ اور صاف گو تھی اور طبیعت میں کسی قسم کا تکبر نہیں پایا جاتا تھا بلکہ ہر طبقہ کے لوگوں کے ساتھ برادرانہ اور بے تکلفانہ انداز میں ملتے تھے۔طبیعت میں دیانتداری کا جذ بہ بھی غالب تھا۔چنانچہ ملازمت کے دوران میں جہاں سینکڑوں ڈگمگا دینے والے موقعے پیدا ہوتے رہتے ہیں ہمیشہ اپنے دامن کو پاک رکھا بلکہ غرباء اور مظلوموں کی امداد کا اچھا نمونہ دکھایا۔۔مرحوم پرانے احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بہت محبت رکھتے تھے۔چنانچہ آپ کے الہامات اور عربی کتب کو ہمیشہ بڑے شوق اور محبت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی تصنیفات سے از حد متاثر تھے۔چنانچہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں نے تو ایم۔اے کا امتحان بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب کی برکت سے پاس کیا تھا۔اپنے بڑے دو بچوں کو بھی گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب درساً پڑھائی تھیں۔جب تذکرہ شائع ہوا تو اس وقت مرحوم اتفاق سے قادیان میں تھے۔مجھے کہہ کر بڑے شوق سے اس کی ایک کاپی منگوائی اور میں اگر بھولتا نہیں تو ایک رات کے دوران شروع سے لے کر آخر تک سب پڑھ ڈالی۔تبلیغ کا بھی شوق تھا اور اپنے مخصوص پٹھانی انداز میں اکثر تبلیغ کرتے رہتے تھے۔بلکہ اگر کسی جلسہ میں شریک ہوں اور وہاں کوئی تبلیغ کا موقع پیدا ہو یا پیدا کیا جا سکے تو فوراً کھڑے ہو کر دو چار منٹ کے لئے کلمہ حق پہونچا دیتے تھے۔ایک دفعہ مشہور عیسائی سوسائٹی مسمی وائی ایم سی۔اے کے جلسہ میں چلے گئے اور صدر مجلس سے کہہ کر دومنٹ کی اجازت حاصل کی کہ میں حضرت مسیح موعود کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ شروع کر دی۔