مضامین بشیر (جلد 1) — Page 392
مضامین بشیر ۳۹۲ ایک بدعت کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں کہ خدا کے محرمات کی ایک رکھ ہوتی ہے اور خدا مومنوں کو اس محفوظ جنگل میں داخل ہونے یا اس میں اپنے جانور چرانے سے منع فرما دیتا ہے۔مگر چونکہ انسان کی طبیعت کمزور واقع ہوئی ہے اور عموماً نیکی کی طرف قدم اٹھانے کی بجائے وہ بدی کی طرف جلدی جھک جاتا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ اس خدائی رکھ کے قریب قریب بھی اپنے جانور نہ چرائیں۔ورنہ اندیشہ ہے کہ کسی وقت غلطی سے وہ رکھ کے اندر جا گھسیں مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس نکتہ کو نہیں سمجھتے اور ہر جائز چیز کو اس انتہاء تک پہونچا دیتے ہیں کہ جہاں حرام و حلال کی حدود دملتی ہیں اور پھر کبھی دانستہ اور کبھی نا دانستہ گناہ کے جنگل میں قدم ڈال بیٹھتے ہیں۔علاوہ ازیں شریعت کے گہرے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو اپنی ذات میں تو نا جائز نہیں ہوتیں مگر ایک خاص ماحول میں جا کر گناہ کا باعث بن جاتی ہیں مگر نا واقف لوگ محض اس بناء پر کہ وہ اپنی ذات میں منع نہیں ، انہیں ہر ماحول میں جائز سمجھنے لگ جاتے ہیں۔مجھے اس نوٹ کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ یہاں قادیان میں مجھے ایک ایسی دعوت ولیمہ میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا جس میں فریقین قدیم اور مخلص احمدی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے مگر اس دعوت میں ایک ایسی بدعت کا اظہار ہو ا جس کے متعلق میں ڈرتا ہوں کہ اگر اس کا بروقت انسداد نہ کیا گیا تو وہ زیادہ وسیع ہو کر ہمیں صحیح اسلامی تمدن سے دُور جا پھینکے گی۔اس دعوت میں مرد وعورت دونوں مدعو تھے۔عورتوں کے کھانے کا انتظام کمروں کے اندر تھا اور مرد جو کافی تعداد میں تھے ان کمروں کے ساتھ لگتے ہوئے صحن میں بٹھائے گئے تھے اور عورتوں اور مردوں کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔جس میں متعدد دروازے کھلتے تھے۔کھانے کے دوران میں کمروں کے اندر سے باجے کی آواز آنی شروع ہوئی جو غالبا گراموں فون یا ریڈیو کی آواز تھی اور گانا جہاں تک میں سمجھ سکا عورتوں کا گایا ہو ا تھا۔یہ گانا عین دُعا تک بلکہ میں اگر غلطی نہیں کرتا تو دُعا کے ابتدائی حصہ میں بھی جاری رہا۔میں خیال کرتا ہوں کہ گا نا خراب مضامین پر ر مشتمل نہیں ہوگا بلکہ جو الفاظ میرے کانوں تک پہونچے ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ غالبا یہ گانا مدحیہ اور نعتیہ اشعار پر ر پر مشتمل تھا مگر بہر حال یہ ایک ایسی بدعت تھی جو اس سے قبل قادیان میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کے گھروں میں ریڈیو سیٹ