مضامین بشیر (جلد 1) — Page 381
۳۸۱ مضامین بشیر نیچے آتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی حقیقی رنگ میں مسلمان نہیں کیونکہ قرآن کی اصولی تعلیم کے مطابق جو شخص بھی کسی اہم اور اصولی مذہبی صداقت کا منکر ہو وہ خدا کی نظر میں مسلمان نہیں سمجھا جا تا مگر اس میں شبہ نہیں کہ ان مختلف اقوام کا کفر الگ الگ رنگ اور الگ الگ درجہ رکھتا ہے اور ان سب کو ایک درجہ اور ایک لیول پر سمجھنا کسی طرح درست نہیں۔اسی لئے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے غیر احمدی منکروں کو کافر قرار دیا ہے۔وہاں کفر کی اقسام کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے کفر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کفر سے علیحدہ اور ممتاز بھی رکھا ہے۔بہر حال ہمارے نز دیک کفر کے مختلف درجے ہیں اور کفر دون کفر کے اصول کے ماتحت غیر احمدی مسلمان ہمارے قریب تر ہیں اور یہ ایک ایسی بدیہی صداقت ہے جسے کسی صورت میں رد نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ اسلام کی دو تعریفیں ہیں۔ایک تو عرفی اور ظاہری تعریف اور دوسری حقیقی اور اصل تعریف۔عرفی اور ظاہری تعریف تو یہ ہے کہ ایک شخص ظاہری طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآنی شریعت کا قائل ہو اور ان پر ایمان لانے کا دعویٰ رکھتا ہو اور حقیقی اور اصلی تعریف یہ ہے کہ اسلام کے متعلق اس کا دعویٰ محض ایک زبانی دعوئی نہ ہو بلکہ وہ اسلام کی حقیقت پر قائم ہو اور اس کی سب صداقتوں پر ایمان لاتا ہو۔اسلام کی اس دوہری تعریف کے ماتحت ہم جہاں غیر احمدیوں کو عرفی اور رسمی لحاظ سے مسلمان کہتے ہیں وہاں حقیقت اور اصلیت کے لحاظ سے ہم ان کے اسلام کے منکر بھی ہیں۔اسی امتیاز کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہامی شعر اشارہ کرتا ہے کہ :- چودور خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلمان باز کردند ۲ اس لطیف الہامی شعر میں جہاں ایک طرف عرف اور نام کے لحاظ سے غیر احمد یوں کو مسلمان کہہ کر پکارا گیا ہے وہاں حقیقت کے لحاظ سے ان کے اسلام کا انکار بھی کیا گیا ہے اور یہ وہ لطیف نکتہ ہے جس میں مسئلہ کفر و اسلام کی ساری بحث کا نچوڑ آ جاتا ہے۔یہ سوال کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے منکروں کو واقعی کا فرقرار دیا ہے چند حوالوں سے بالکل واضح ہو جاتا ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ( الف ) : '' اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کو مسلمان نہیں جانتا۔جب تک وہ غلط عقائد کو چھوڑ کر راہ راست پر نہ آجائیں اور اس مطلب کے واسطے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے۔‘ے