مضامین بشیر (جلد 1) — Page 377
۳۷۷ مضامین بشیر حضرت مولوی صاحب کی دوست نوازی بھی غیر معمولی شان کی تھی۔دوست کی خاطر اپنی ہر چیز قربان کر دینے کو تیار ہو جاتے تھے۔خود تنگی برداشت کرتے تھے مگر دوست کو آرام پہونچاتے تھے۔مجھے ایسی مثالیں معلوم ہیں کہ مولوی صاحب نے بال بال قرض میں پھنسے ہوئے ہونے کے باوجود ایک دوست کی خاطر سینکڑوں روپے کی قربانی کر دی۔ان کا یہ وصف کمزوری کی حد تک پہونچا ہوا تھا۔میں نے کئی دفعہ سمجھایا کہ آپ کی مالی حالت کمزور ہے اور انسان صرف اپنی طاقت کے اندراندر ہی مکلف ہوتا ہے۔اس لئے آپ بلا وجہ دوسروں کی خاطر اپنی مالی ذمہ واریوں میں اضافہ نہ کریں۔میرے سامنے وعدہ کر لیتے تھے کہ اچھا میں اب خیال رکھوں گا مگر پھر ہر موقع پر طبیعت کی فیاضی غالب آ جاتی تھی۔جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ وفات پر غیر معمولی قرض ثابت ہوا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس قرض کا بیشتر حصہ دوستوں کی خاطر سے معرض وجود میں آیا ہے کیونکہ خود ان کی اپنی زندگی از حد سادہ تھی اور سوائے علمی کتب کی خرید کے اور کوئی شوق نہیں تھا اور یہ ذخیرہ بھی دوستوں ہی کی نذر ہو جاتا۔اسی طرح دوستوں کے ساتھ مرحوم کا تعلق بہت بے تکلفانہ رنگ رکھتا تھا اور طبیعت خوب با مذاق تھی اور اپنے دوستوں کی مجلس میں رونق کا باعث ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ساتھ از حد محبت تھی اور گوقریباً سب کے استاد تھے مگر انتہائی عزت کے ساتھ پیش آتے تھے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے تو مولوی صاحب کا گویا ایک عاشقانہ رنگ تھا۔اور حضرت خلیفتہ امیج کو بھی حضرت مولوی صاحب کے ساتھ بہت محبت تھی اور اس محبت میں بے تکلفی کا انداز غالب تھا۔اور آپ اپنے اکثر مضامین کے لئے حوالے وغیرہ مولوی صاحب کے ذریعہ تلاش کروایا کرتے تھے اور قرآن کریم کے ترجمہ کے کام میں بھی حضرت امیر المومنین کو دوسروں کی نسبت مولوی صاحب پر زیادہ اعتماد تھا۔میں جب مولوی صاحب کی مرض الموت میں پہلی دفعہ ان کی عیادت کے لئے گیا تو ضعف بہت تھا اور بخار بھی تیز تھا اور پھیپھڑے سخت ماؤف ہو چکے تھے۔از حد خوشی سے ملے اور بڑے اطمینان کے ساتھ باتیں کرتے رہے لیکن میرے چند منٹ ٹھہرنے کے بعد فرمانے لگے میاں صاحب آپ کی طبیعت حساس ہے اور ایسی طبیعت بیمار کا اثر جلد قبول کرتی ہے۔اس لئے اب آپ آرام کریں میں نے کہا کوئی خدمت یا ضرورت ہو تو مجھے بتا ئیں۔فرمانے لگے آپ کو نہیں بتاؤں گا تو کس کو بتاؤں گا مگر جزاكم الله مجھے اس وقت کوئی ضرورت نہیں ہے۔پھر جب میں مولوی صاحب کی وفات سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل دوسری دفعہ گیا تو اس وقت گویا نزع کی حالت تھی اور سانس اکھڑا ہوا تھا مگر ہوش وحواس قائم تھے۔بڑی خوشی سے مصافحہ کیا اور کچھ باتیں بھی کیں لیکن پھر بھی یہی اصرار کیا کہ میں زیادہ نہ ٹھہروں۔میں