مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 378 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 378

مضامین بشیر جانتا تھا کہ میرے ٹھہرنے سے انہیں از حد خوشی تھی مگر اس خوشی پر اس خطرہ کا احساس غالب تھا جو وہ اپنے خیال میں میرے زیادہ ٹھہر نے میں سمجھتے تھے۔میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے متعلق حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے واسطے تار دیتا ہوں بہت خوش ہوئے۔اور جزاکم اللہ کہا مگر افسوس کہ ابھی تار ڈاک خانہ سے روانہ نہ ہوئی تھی کہ مولوی صاحب وفات پاگئے اور بجائے اس کے وفات کی تار بھجوانی پڑی۔غرض حضرت مولوی صاحب کا وجود کئی لحاظ سے بے نظیر وجو دتھا اور گو ہم اس بات کے قائل نہیں کہ ایک خدائی جماعت میں کسی فرد کی وفات سے خلاء واقع ہو سکتا ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ اس وقت بظاہر کئی باتوں میں جماعت کے اندرمولوی صاحب کا جانشین نظر نہیں آتا۔وہ چونکہ مقرر نہیں تھے۔اس لئے پبلک کے سامنے نہیں آتے تھے مگر پس پردہ ان کا کام بہت اعلیٰ اور ارفع تھا۔ایسے رفیع القدر بزرگ کی جدائی پر دل غم محسوس کرتا ہے اور آنکھ پُر نم ہوتی ہے مگر ہم خدا کی قضا میں اور اس کی رضا میں بہر حال راضی ہیں اور اس سے زیادہ نہیں کہتے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کی وفات پر فرمایا کہ :-۔الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ۔۔۔۔۔وَإِنَّا بِفَرَاقِكَ لَمَحْزُونُونَ - ا میں اس موقع پر ایک لفظ سلسلہ کے علماء اور مبلغین کی خدمت میں بھی عرض کرنا چاہتا ہوں۔جماعت میں خدا کے فضل سے ہر رنگ کے عالم موجود ہیں اور ان میں سے بعض کا مرتبہ حقیقہ بہت بلند ہے مگر عمو مانو جوان علماء میں ایک پہلو خامی کا بھی نظر آتا ہے۔اور وہ یہ کہ بے شک علم مناظرہ میں خوب مشق ہے اور مناظرے سے براہ راست تعلق رکھنے والے علوم میں بھی اچھی نظر ہے مگر علم کے میدان میں تنوع کی کمی ہے۔جس کی وجہ سے علم میں وہ وسعت اور وہ بلندی نہیں پیدا ہوتی جو ایک اعلیٰ درجہ کے مبلغ میں ہونی چاہیئے اور بعض پہلو خامی کے باقی رہتے ہیں۔اسی طرح بحث مباحثہ اور مناظرہ میں یادہ انہماک ہونے کی وجہ سے بعض طبیعتوں میں سطحیت بھی پیدا ہو جاتی ہے اور علم کی گہرائیوں میں جانے کا پہلو کمزور رہتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب کی وفات ہمارے نو جوان علماء میں اس حقیقت کا احساس پیدا کرانے میں کامیابی ہوگی، جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کو اپنے اعلیٰ انعامات کا وارث بنائے اور ان کی اولاد کا ہر رنگ میں حافظ و ناصر ہو۔آمین ( مطبوعه الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۴۰ء )