مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 375 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 375

۳۷۵ مضامین بشیر نہیں کرتے تھے۔خود بھی تحصیل علم کا از حد شوق تھا۔مالی حالت اچھی نہیں تھی مگر جب بھی کوئی نئی کتاب دیکھتے یا کسی نئے ایڈیشن کی کتاب دیکھتے تھے تو بے چین ہو جاتے اور کسی نہ کسی طرح ضرور ایسی کتاب خرید لیتے۔میں نے ان کی مالی حالت کو دیکھ کر بسا اوقات اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ زیر بار نہ ہو ا کر میں بلکہ جب کبھی کوئی نئی کتاب نظر آیا کرے مجھے بتا دیا کریں میں خرید لیا کروں گا۔اور پھر آپ بھی اس سے استفادہ کر لیا کریں مگر ان کی طبیعت اس قسم کے انتظام سے تسلی نہیں پاتی تھی اور باوجود مالی تنگی کے کتب کی خرید کا سلسلہ جاری رہتا تھا لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ جب ایک کتاب خرید لی اور کچھ عرصہ اسے مطالعہ میں رکھا تو پھر اس کے بعد اپنے کسی دوست کو ہدیہ دے دی۔حضرت مولوی صاحب کی علمی رفعت کے تعلق میں ان کا علمی تنوع خاص طور پر قابل ذکر ہے۔خدا کے فضل سے جماعت میں بڑے بڑے پایہ کے عالم موجود ہیں مگر جو علمی تنوع مرحوم کو حاصل تھا ، وہ کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتا۔تفسیر ، تجوید ، حدیث ، اصول حدیث ، مصطلحات حدیث ، کتب سلسلہ احمدیہ ، فقہ، اصول فقه ، تاریخ ، بلاغت، ادب ، لغت ، صرف ونحو ، عروض وقافیه ، منطق و فلسفه حتی که علم تقدیم اور علم ہیت وغیرہ تک میں ایک سادماغ چلتا تھا اور ان سب علوم میں خوب دسترس حاصل تھی۔یہ علمی تنوع یقینا کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتا مگر ان جملہ علوم میں سے حضرت مولوی صاحب کو خصوصیت سے قرآن شریف کے ساتھ از حد محبت تھی اور اس پاک کتاب کے گہرے مطالعہ میں جس میں پھر ہر علم آشامل ہوتا ہے ، خاص لطف حاصل ہوتا تھا۔اسی طرح کتب سلسلہ پر کامل عبور تھا اور مولوی صاحب کا دماغ گویا حوالوں کی کان تھا۔یہ جو جدید تقویم ، ہجری شمسی نظام کی بنا پر حال ہی میں جماعت میں جاری ہوئی ہے۔اس کے تیار کرنے میں بھی حضرت مولوی صاحب کا خاص ہاتھ تھا اور جب سے کہ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے اس کے متعلق حکم دیا تھا۔مولوی صاحب مکرم نهایت استغراق کے ساتھ اس میں منہمک رہتے تھے۔اس علمی رفعت کے علاوہ حضرت مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر تیز ذہن عطا کیا تھا اور دماغ از حد زیرک تھا۔میں جب کبھی بھی کوئی علمی یا تحقیقی مضمون لکھتا تھا تو حتی الوسع ضرور موقع نکال کر مولوی صاحب کو سناتا تھا تا کہ اگر اس میں کوئی خامی ہو تو وہ ظاہر ہو جائے۔اور مولوی صاحب کی جرح سُن کر مجھے ہر دفعہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا مولوی صاحب کا چوکس دماغ چاروں طرف دیکھتا